Surah An Nahl Ayat 89 (16:89)
The Bee · Juz 14 · Makki
وَ یَوْمَ نَبْعَثُ فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا عَلَیْهِمْ مِّنْ اَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِیْدًا عَلٰى هٰۤؤُلَآءِؕ-وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ 89
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جس دن ہم ہر امت میں انہیں میں سے ان پر ایک گواہ اٹھائیں گے اور اے حبیب! تمہیں ان سب پر گواہ بناکر لائیں گے اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا جو ہر چیز کا روشن بیان ہے اور مسلمانوں کیلئے ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جس دن ہم ہر گروہ میں ایک گواہ انہیں میں سے اٹھائیں گے کہ ان پر گواہی دے اور اے محبوب تمہیں ان سب پر شاہد بناکر لائیں گے اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے اور ہدایت اور رحمت اور بشارت مسلمانوں کو۔
Tafseer (Urdu)
{و یوم نبعث فی كل امة شهیدا علیهم:اور جس دن ہم ہر امت میں ان پر ایک گواہ اٹھائیں گے۔} اس ایت میں گواہ سے مراد انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام ہیں یہ قیامت کے دن اپنی اپنی امتوں کے متعلق گواہی دیں گے کہ انہوں نے اللہ تعالی کا پیغام ان تک پہنچایا اوران لوگوں کو ایمان قبول کرنے کی دعوت دی۔( قرطبی النحل تحت الایۃ: ۸۹ ۵ / ۱۲۰ الجزء العاشر) { وجئنا بك شهیدا على هؤلآء:اور اے محبوب! تمہیں ان سب پر گواہ بناکر لائیں گے۔} یعنی اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہم تمہیں امتوں اور ان کے خلاف گواہی دینے والے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام پر گواہ بنا کر لائیں گے جیسا کہ دوسری آیت میں ارشاد ہوا ’’فكیف اذا جئنا من كل امةۭ بشهید و جئنا بك على هؤلآء شهیدا‘‘(نساء:۴۱) ترجمہ کنزالعرفان: تو کیسا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور اے حبیب! تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بناکر لائیں گے۔( ابوسعو د النحل تحت الایۃ: ۸۹ ۳ / ۲۸۷ روح البیان النحل تحت الایۃ: ۸۹ ۵ / ۶۹ ملتقطا) {تبیانا لكل شیء:جو ہر چیز کا روشن بیان ہے۔} اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’قران عظیم گواہ ہے اور ا س کی گواہی کس قدر اعظم ہے کہ وہ ہر چیز کا تبیان ہے اور تبیان اس روشن اور واضح بیان کو کہتے ہیں جو اصلا پوشیدگی نہ رکھے کہ لفظ کی زیادتی معنی کی زیادتی پر دلیل ہوتی ہے اور بیان کے لئے ایک تو بیان کرنے والا چاہئے وہ اللہ سبحانہ وتعالی ہے اور دوسرا وہ جس کے لئے بیان کیا جائے اور وہ وہ ہیں جن پر قران اترا(یعنی) ہمارے سردار رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔اور اہل سنت کے نزدیک ’’شیء‘‘ ہر موجود کو کہتے ہیں تو اس میں جملہ موجودات داخل ہو گئے فرش سے عرش تک شرق سے غرب تک ذاتیں اور حالتیں حرکات اور سکنات پلک کی جنبشیں اور نگاہیں دلوں کے خطرے اور ارادے اور ان کے سوا جو کچھ ہے (وہ سب اس میں داخل ہو گیا) اور انہیں موجودات میں سے لوح محفوظ کی تحریر ہے تو ضروری ہے کہ قران عظیم میں ان تمام چیزوں کابیان روشن اور تفصیل کامل ہو اور یہ بھی ہم اسی حکمت والے قران سے پوچھیں کہ لوح میں کیا کیا لکھا ہوا ہے۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے ’’ كل صغیر و كبیر مستطر‘‘(قمر:۵۳) (ترجمہ کنزالعرفان:ہر چھوٹی اور بڑی چیز لکھی ہوئی ہے۔) اور فرماتا ہے ’’ و كل شیء احصینه فی امام مبین‘‘(یس:۱۲) (ترجمہ کنزالعرفان:اور ایک ظاہر کردینے والی کتاب (لوح محفوظ) میں ہر چیز ہم نے شمار کررکھی ہے۔) اور فرماتا ہے ’’و لا حبة فی ظلمت الارض و لا رطب و لا یابس الا فی كتب مبین‘‘(انعام:۵۹) (ترجمہ کنزالعرفان:اور نہ ہی زمین کی تاریکیوں میں کوئی دانہ ہے مگر وہ ان سب کو جانتا ہے۔ اور کوئی تر چیز نہیں اور نہ ہی خشک چیز مگر وہ ایک روشن کتاب میں ہے۔) اور بے شک صحیح حدیثیں فرما رہی ہیں کہ روز اول سے اخر تک جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہو گا سب لوح محفوظ میں لکھا ہے بلکہ یہاں تک ہے کہ جنت و دوزخ والے اپنے ٹھکانے میں جائیں اور وہ جو ایک حدیث میں فرمایا کہ ابد تک کا سب حال اس میں لکھا ہے اس سے بھی یہی مراد ہے اس لئے کہ کبھی ابد بولتے ہیں اور اس سے ائندہ کی مدت طویل مراد لیتے ہیں جیسا کہ بیضاوی میں ہے ورنہ غیر متناہی چیز کی تفصیلیں متناہی چیز نہیں اٹھا سکتی جیسا کہ پوشیدہ نہیں اور اسی کو ماکان وما یکون کہتے ہیں اور بے شک علم اصول میں بیان کر دیا گیا کہ نکرہ مقام نفی میں عام ہوتا ہے تو جائز نہیں کہ اپنی کتاب میں اللہ تعالی نے کوئی چیز بیان سے چھوڑ دی ہو اور’’ كل ‘‘ کا لفظ تو عموم پر ہر نص سے بڑھ کر نص ہے تو روا نہیں کہ روشن بیان اور تفصیل سے کوئی چیز چھوٹ گئی ہو۔( الدولۃ المکیہ بالمادۃ الغیبیہ النظر الخامس فی الدلائل المدعی من الاحادیث والاقوال والایات ۷۵-۸۳) قران کریم تمام علوم کی جامع کتاب ہے: ایت کے اس حصے ’’ تبیانا لكل شیء‘‘ ترجمہ کنزالعرفان:قران ہر چیز کا روشن بیان ہے۔ نیز ایک اور ایت کے اس حصے ’’ما فرطنا فی الكتب من شیء‘‘(انعام:۳۸) ترجمہ کنزالعرفان: ہم نے اس کتاب میں کسی شے کی کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ سے معلوم ہوا کہ قران مجید وہ عظیم الشان کتاب ہے جو تمام علوم کی جامع ہے اور یہی بات احادیث اور بزرگان دین کے اقوال میں بھی بیان کی گئی ہے چنانچہ ترمذی کی حدیث میں ہے سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے پیش آنے والے فتنوں کی خبر دی تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے ان سے خلاصی کاطریقہ دریافت کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’اللہ کی کتاب جس میں تم سے پہلے واقعات کی بھی خبر ہے تم سے بعد کے واقعات کی بھی اور تمہارے اپس کے فیصلے بھی ہیں۔( ترمذی کتاب فضائل القران باب ما جاء فی فضل القران ۴ / ۴۱۴ الحدیث: ۲۹۱۵) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ’’جو علم چاہے وہ قرآن کو لازم کرلے کیونکہ اس میں اولین و آخرین کی خبریں ہیں ۔( مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الاوائل باب اول ما ومن فعلہ ۸ / ۳۳۷ الحدیث: ۱۰۷) امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ امت کے سارے علوم حدیث کی شرح ہیں اور حدیث قرآن کی اور یہ بھی فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے جو کوئی حکم بھی فرمایا وہ وہی تھا جو آپ کو قرآن پاک سے مفہوم ہوا۔( الاتقان فی علوم القران النوع الخامس والستون فی العلوم المستنبطۃ من القران ۲ / ۴۷۶) حضرت ابوبکر بن مجاہد رحمۃاللہ تعالی علیہ سے منقول ہے انہوں نے ایک روز فرمایا کہ عالم میں کوئی چیز ایسی نہیں جو کتاب اللہ یعنی قرآن شریف میں مذکور نہ ہو۔ اس پر کسی نے ان سے کہا: سراؤں کا ذکر کہاں ہے: اپ رحمۃاللہ تعالی علیہ نے فرمایا اس آیت ’’ لیس علیكم جناح ان تدخلوا بیوتا غیر مسكونة فیها متاع لكم(اس بارے میں تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ان گھروں میں جاؤ جو خاص کسی کی رہائش نہیں جن میں تمہیں نفع اٹھانے کا اختیار ہے۔)‘‘ (النور:۲۹) میں ہے۔ ( الاتقان فی علوم القران النوع الخامس والستون فی العلوم المستنبطۃ من القران ۲ / ۴۷۷) ابن ابوالفضل مرسی نے کہا کہ اولین و آخرین کے تمام علوم قرآن پاک میں ہیں ۔( روح المعانی النحل تحت الایۃ: ۸۹ ۷ / ۶۰۸) غرض یہ کتاب جمیع علوم کی جامع ہے اور جس کسی کو اس کاجتنا علم ملا ہے وہ اتنا ہی جانتا ہے۔ نوٹ: اس ایت مبارکہ سے متعلق مزید تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃاللہ تعالی علیہ کی عظیم الشان تصنیف ’’انباء الحی ان کلامہ المصون تبیان لکل شیء‘‘(قران ہر چیز کا بیان ہے) کا مطالعہ فرمائیں ۔ {هدى و رحمة:ہدایت اور رحمت۔} یعنی جس نے قران کی تصدیق کی اس میں موجود اللہ تعالی کی حدوں پر اور امر و نہی پر عمل کیا قران نے جن چیزوں کو حلال کیا اسے حلال سمجھا اور جن چیزوں کو حرام کیا انہیں حرام جانا تو اس کے لئے قران ہدایت اور رحمت ہے اور اللہ تعالی کی اطاعت کرنے والے اوراس کی وحدانیت کا اقرار کرنے والے کو قران اخرت میں بہترین ثواب اور عظیم مرتبے کی بشارت دیتا ہے۔( تفسیر طبری النحل تحت الایۃ: ۸۹ ۷ / ۶۳۳)