Surah Al Isra Ayat 100 (17:100)
The Night Journey · Juz 15 · Makki
قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَآىٕنَ رَحْمَةِ رَبِّیْۤ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْیَةَ الْاِنْفَاقِؕ-وَ كَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا 100
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم فرماؤ: اگر تم لوگ میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے مالک ہوتے تو خرچ ہوجانے کے ڈر سے تم( انہیں ) روک رکھتے اور آدمی بڑا کنجوس ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم فرماؤ اگر تم لوگ میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے مالک ہوتے تو انہیں بھی روک رکھتے اس ڈر سے کہ خرچ نہ ہوجائیں اور آدمی بڑا کنجوس ہے۔
Tafseer (Urdu)
{قل:تم فرماؤ۔} اس سے پہلے ایت نمبر 90 میں کفار کا ایک مطالبہ گزرا کہ ان کے شہر میں نہریں اور چشمے جاری کر دئیے جائیں تاکہ ان کے مال زیادہ ہو جائیں اور ان کی معیشت بہتر ہوجائے تو اس ایت میں اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے فرمایا کہ اپ ان سے فرما دیں ’’اگر تم لوگ میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے مالک ہوتے تو بھی تم اپنے بخل اور کنجوسی پر قائم رہتے اور خرچ ہوجانے کے ڈر سے ان خزانوں کو روک رکھتے ۔( تفسیر کبیر الاسراء تحت الایۃ: ۱۰۰ ۷ / ۴۱۲) اس ایت مبارکہ میں لوگوں کے خرچ کرنے کا حال بیان ہوا جبکہ اللہ تعالی نے مخلوق پر کتنا خرچ فرمایا ہے اور کتنا خرچ فرما رہا ہے اس کا عالم ملاحظہ ہو چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ اللہ تعالی کا دست کرم بھرا ہوا ہے اور شب و روز کا خرچ کرنا بھی اسے کم نہیں کرتا تم ذرا غور تو کرو کہ جب سے اللہ تعالی نے آسمان اور زمین کو بنایا ہے تب سے اس نے کتنا خرچ فرمایا ہے لیکن جو کچھ اس کے دست قدرت میں ہے اس میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی اس کا عرش پانی پر تھا اور اس کے قبضہ میں میزان ہے جسے وہ بلند و پست فرماتا ہے۔( بخاری کتاب التوحید باب قول اللہ تعالی: لما خلقت بیدی ۴ / ۵۴۳ الحدیث: ۷۴۱۱) {و كان الانسان قتورا:اور آدمی بڑا کنجوس ہے۔} یہاں انسان کو اس کی اصل کے اعتبار سے بڑ اکنجوس فرمایا گیا ہے کیونکہ انسان کو محتاج پیدا کیا گیا ہے اور محتاج لازمی طور پر وہ چیز پسند کرتا ہے جس سے محتاجی کا ضرر اس سے دور ہو جائے اور اسی لئے وہ اس چیز کو اپنی ذات کے لئے روک لیتا ہے جبکہ اس کی سخاوت خارجی اسبا ب کی وجہ سے ہوتی ہے جیسے اسے اپنی تعریف پسند ہوتی ہے یا ثواب ملنے کی امید ہوتی ہے تو اس سے ثابت ہوا کہ انسان اپنی اصل کے اعتبار سے بخیل ہے۔( خازن الاسراء تحت الایۃ: ۱۰۰ ۳ / ۱۹۴)