Surah Al Isra Ayat 108 (17:108)
The Night Journey · Juz 15 · Makki
وَّ یَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا 108
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور کہتے ہیں ہمارا رب پاک ہے ،بیشک ہمارے رب کا وعدہ پوراہونے والا تھا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کہتے ہیں پاکی ہے ہمارے رب کو بیشک ہمارے رب کا وعدہ پورا ہونا تھا۔
Tafseer (Urdu)
{و یقولون: اور کہتے ہیں ۔} گزشتہ ایت میں جن سعادت مندوں کا تذکرہ کیا گیا تھا اگلی ایات میں انہی کے قول و فعل کا ذکر ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ ہمارا رب عزوجل ہر عیب سے پاک ہے لہذا وہ وعدہ خلافی سے بھی پاک ہے توبیشک ہمارے رب عزوجل کا وعدہ پورا ہونے والا تھا جو اس نے اپنی پہلی کتابوں میں فرمایا تھا کہ نبی آخر الزماں محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو مبعو ث فرمائیں گے اور یہ وعدہ پورا ہوچکا۔ یہ تو ان حضرات کا قول و عقیدہ تھا اور ان کا عمل یہ ہے کہ جب یہ قران سنتے ہیں تو اپنے رب عزوجل کے حضور عجز و نیاز سے اور نرم دلی سے روتے ہوئے ٹھوڑیوں کے بل گرجاتے ہیں اور یہ قرآن ان کے دلوں کے خشوع و خضوع کو اور ان کے دلوں کے جھکنے کو اور بڑھادیتا ہے۔( خازن الاسراء تحت الایۃ: ۱۰۸-۱۰۹ ۳ / ۱۹۵) تلاوت قران کے وقت رونا مستحب ہے: قرآن کریم کی تلاوت کے وقت رونا مستحب ہے ۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’بے شک یہ قران حزن کے ساتھ اترا ہے اس لئے جب تم اسے پڑھو تو روو اور اگر رو نہ سکو تو رونے جیسی شکل بناو۔( ابن ماجہ کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیہا باب فی حسن الصوت بالقران ۲ / ۱۲۹ الحدیث: ۱۳۳۷) اور یہ رونا اگر اللہ تعالی کے خوف سے ہو تو اس کی بڑی فضیلت ہے چنانچہ ترمذی و نسائی کی حدیث میں ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ارشاد فرمایا ’’ وہ شخص جہنم میں نہ جائے گا جو اللہ تعالی کے خوف سے روئے۔( ترمذی کتاب فضاءل الجہاد باب ما جاء فی فضل الغبار فی سبیل اللہ ۳ / ۲۳۶ الحدیث: ۱۶۳۹ نسائی کتاب الجہاد فضل من عمل فی سبیل اللہ علی قدمہ ص۵۰۵ الحدیث: ۳۱۰۵) تلاوت قران سے دل میں نرمی پیدا ہوتی ہے: اس ایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قران کریم دل میں نرمی او ر خشوع وخضوع پیدا کرتا ہے ۔ اسی لئے حدیث مبارک میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ دل ایسے زنگ آلود ہوتے ہیں جیسے لوہا پانی لگنے سے زنگ آلود ہوجاتا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کی :یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ان دلوں کی صفائی کس چیز سے ہو گی ارشاد فرمایا: موت کو زیادہ یاد کرنے اور قرآن کریم کی تلاوت کرنے سے۔( شعب الایمان التاسع عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ فصل فی ادمان تلاوتہ ۲ / ۳۵۲ الحدیث: ۲۰۱۴) {و یخرون للاذقان:اور وہ ٹھوڑی کے بل گرتے ہیں ۔}یاد رہے کہ یہ ایت ان ایات میں سے ایک ہے جنہیں پڑھنے اور سننے والے پر سجدہ تلاوت کرنا واجب ہو جاتا ہے۔