Surah Al Isra Ayat 107 (17:107)
The Night Journey · Juz 15 · Makki
قُلْ اٰمِنُوْا بِهٖۤ اَوْ لَا تُؤْمِنُوْاؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖۤ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا 107
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم فرماؤ: (اے لوگو!) تم اس قرآن پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ بیشک جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا جب ان کے سامنے اس کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ ٹھوڑی کے بل سجدہ میں گر پڑتے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم فرماؤ کہ تم لوگ اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ بیشک وہ جنہیں اس کے اترنے سے پہلے علم ملا جب ان پر پڑھا جاتا ہے ٹھوڑی کے بل سجدہ میں گر پڑتے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{قل: تم فرماو۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تم ان لوگوں سے فرما دو کہ اے لوگو! تم اس قران پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ اور اپنے لئے نعمت آخرت اختیار کرو یا عذاب جہنم وہ تمہاری مرضی ہے لیکن جن سلیم الفطرت لوگوں کو اس قران کے نازل ہونے سے پہلے کسی اسمانی کتاب کاعلم دیا گیا یعنی مومنین اہل کتاب جو رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بعثت سے پہلے انتظار و جستجو میں تھے اور حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بعثت کے بعد شرف اسلام سے مشرف ہوئے جیسے کہ حضرت زید بن عمرو بن نفیل اور حضرت سلمان فارسی اور حضرت ابو ذر وغیر ہم رضی اللہ تعالی عنہم تو جب ان حضرات کے سامنے قران کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ ٹھوڑی کے بل سجدہ میں گر پڑتے ہیں ۔( مدارک الاسراء تحت الایۃ: ۱۰۷ ص۶۳۹ خازن الاسراء تحت الایۃ: ۱۰۷ ۳ / ۱۹۵ ملتقطا)