Surah Al Isra Ayat 110 (17:110)
The Night Journey · Juz 15 · Makki
قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَؕ-اَیًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰىۚ-وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا وَ ابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًا 110
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم فرماؤ: اللہ کہہ کر پکارو یا رحمٰن کہہ کر پکارو، تم جو کہہ کر پکارو سب اسی کے اچھے نام ہیں اور اپنی نماز میں نہ آواز زیادہ بلند کرو اور نہ اسے بالکل آہستہ کردواور دونوں کے درمیان کاراستہ تلاش کرو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم فرماؤ اللہ کہہ کر پکارو یا رحمٰن کہہ کر جو کہہ کر پکارو سب اسی کے اچھے نام ہیں اور اپنی نماز نہ بہت آواز سے پڑھو نہ بالکل آہستہ اور ان دونوں کے بیچ میں راستہ چاہو۔
Tafseer (Urdu)
{قل:تم فرماو۔} اس ایت کے شان نزول کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ ایک رات سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے طویل سجدہ کیا اور اپنے سجدہ میں یااللہ یارحمن فرماتے رہے۔ ابوجہل نے سنا تو کہنے لگا کہ محمد (صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم)ہمیں تو کئی معبودوں کے پوجنے سے منع کرتے ہیں اور خود دو کو پکارتے ہیں اللہ کو اور رحمن کو (معاذ اللہ عزوجل)۔( خازن الاسراء تحت الایۃ: ۱۱۰ ۳ / ۱۹۵-۱۹۶) اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی اور بتایا گیا اللہ اور رحمن دو نام ایک ہی معبود برحق کے ہیں خواہ کسی نام سے پکارو اس کے بہت سے نام ہیں اور سب نام اچھے ہیں جیسے اللہ عزوجل کے ننانوے نام معروف ہیں اور حقیقتا اس سے بھی زیادہ نام ہیں جن کے معنی بہت پاکیزہ ہیں ۔ {و لا تجهر بصلاتك و لا تخافت بها:اور اپنی نماز میں نہ اواز زیادہ بلند کرو اور نہ بالکل اہستہ کردو۔} شان نزول: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ یہ ایت اس وقت نازل ہوئی جب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مکہ مکرمہ میں جلوہ فرما تھے ۔ اپ جس وقت اپنے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کونماز پڑھایا کرتے تو اپنی اواز مبارک قران کریم پڑھنے میں بلند فرمایا کرتے تھے جب کافر سن لیتے تو قران کریم اور اس کے اتارنے والے اور لانے والے کی شان میں گستاخانہ کلمات بکتے تو اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے فرمایا ’’و لا تجهر بصلاتك‘‘ یعنی نماز کی قراء ت کو اونچا نہ کرو کہ کافر سن لیں گے تو بیہودہ کلمات بکیں گے۔ ’’و لا تخافت بها‘‘ یعنی اصحاب سے یوں اہستہ نہ پڑھو کہ وہ سن نہ سکیں ’’و ابتغ بین ذلك سبیلا‘‘ اور ان دونوں کے بیچ میں راستہ چاہو۔( بخاری کتاب التفسیر سورۃ بنی اسرائیل باب ولا تجہر بصلاتک ولا تخافت بہا ۳ / ۲۶۳ الحدیث: ۴۷۲۲)