Surah Al Isra Ayat 111 (17:111)
The Night Journey · Juz 15 · Makki
وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ كَبِّرْهُ تَكْبِیْرًا 111
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور تم کہو: سب خوبیاں اللہ کیلئے ہیں جس نے اپنے لیے بچہ اختیار نہ فرمایا اور بادشاہی میں اس کا کوئی شریک نہیں اور کمزوری کی وجہ سے اس کا کوئی مدد گار نہیں اور اس کی اچھی طرح بڑائی بیان کرو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور یوں کہو سب خوبیاں اللہ کو جس نے اپنے لیے بچہ اختیار نہ فرمایا اور بادشاہی میں کوئی اس کا شریک نہیں اور کمزوری سے کوئی اس کا حمایتی نہیں اور اس کی بڑائی بولنے کو تکبیر کہو۔
Tafseer (Urdu)
{و قل: اور تم کہو۔} ایت میں فرمایا گیا کہ سب خوبیاں اللہ عزوجل کیلئے ہیں جس نے اپنے لیے بچہ اختیار نہ فرمایا جیسا کہ مشرکین عرب اور یہودو نصاری کہتے تھے۔ مشرکین فرشتوں کو رب کی بیٹیاں اور یہودی حضرت عزیر علیہ الصلوۃ والسلام کو اور عیسائی حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالی کا بیٹا کہتے تھے۔ (اور اے حبیب!) مزید یہ کہو کہ بادشاہی میں اس رب عزوجل کا کوئی شریک نہیں جیسا کہ مشرکین کہتے ہیں نیز کمزوری کی وجہ سے اس کا کوئی مدد گار نہیں یعنی وہ کمزور نہیں کہ اس کوکسی حمایتی اور مددگار کی حاجت ہو کہ کمزور کو ہی مددگار کی حاجت ہوتی ہے ۔ ایت کے اخر میں فرمایا کہ اس کی اچھی طرح بڑائی بیان کرو۔( روح البیان الاسراء تحت الایۃ: ۱۱۱ ۵ / ۲۱۴ ملخصا) اللہ تعالی کی حمد کرنے کے3فضائل: اس ایت کی ابتداء میں اللہ تعالی کی حمد کرنے کا فرمایا گیا اس مناسبت سے یہاں حمد کے 3فضائل درج ذیل ہیں : (1)… حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ قیامت کے دن جنت کی طرف سب سے پہلے وہی لوگ بلائے جائیں گے جو ہر حال میں اللہ تعالی کی حمد کرتے ہیں ۔( شعب الایمان الثالث والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔ الخ ۴ / ۹۰ الحدیث: ۴۳۷۳) (2)… حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ بہترین ذکر’’ لا الـہ الا اللہ‘‘ہے اور بہترین دعا ’’الحمد للہ‘‘ ہے۔( ترمذی کتاب الدعوات باب ما جاء ان دعوۃ المسلم مستجابۃ ۵ / ۲۴۸ الحدیث: ۳۳۹۴) (3)… حضرت سمرہ بن جند ب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشادفرمایا ’’ اللہ تعالی کے نزدیک چار کلمے بہت پیارے ہیں ۔ ’’سبحان اللہ والحمد للہ ولا الـہ الا اللہ واللہ اکبر‘‘(مسلم کتاب الاداب باب کراہۃ التسمیۃ بالاسماء القبیحۃ وینافع وغیرہ ص۱۱۸۱ الحدیث: ۱۲(۲۱۳۷)) تکبیر یعنی اللہ اکبر کہنے کے2 فضائل: اس ایت کے اخر میں اللہ تعالی کی اچھی طرح بڑائی بیان کرنے کا فرمایا گیااس کی مناسبت سے یہاں تکبیر کہنے کے 2فضائل ملاحظہ ہوں : (1)…حضرت ابو ہریرہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہےرسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’جس نے ’’اللہ اکبر‘‘کہا تو اس کے لئے اس کے بدلے بیس نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس کے بیس گناہ مٹا دئیے جائیں گے۔(مسند امام احمد مسند ابی ہریرۃرضی اللہ عنہ ۳ / ۱۸۲ الحدیث: ۸۰۹۹) (2)…حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں : ’’اللہ اکبر‘‘ (کہنا) اسمان و زمین کے درمیان کی فضا بھر دیتا ہے۔(مشکاۃ المصابیحکتاب الدعوات باب ثواب التسبیح والتحمید۔۔۔الخ الفصل الثالث ۱ / ۴۳۴ الحدیث: ۲۳۲۲) اس کی شرح میں مفتی احمد یا ر خاں نعیمی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : اس (کلمے) کا ثواب اس کی عظمت ان تمام چیزوں کو بھر دیتی ہے یہ ہمیں سمجھانے کے لیے ہے کہ ہماری کوتاہ نظریں ان اسمان زمین تک ہی محدود ہیں ورنہ رب تعالی کی کبریائی کے مقابل اسمان و زمین کی کیا حقیقت ہے۔(مراۃ المناجیح کتاب الدعوات باب ثواب التسبیح والتحمید۔۔۔ الخ الفصل الثالث ۳ / ۳۸۴ تحت الحدیث: ۲۲۱۲) اللہ تعالی ہمیں اپنی حمدو ثنا اور عظمت و بڑائی بیان کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے امین۔ بچوں کو سکھائی جانے والی ایت: امام عبداللہ بن احمد نسفی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس آیت کا نام آیت العزرکھا ہے اور بنی عبدالمطلب کے بچے جب بولنا شروع کرتے تھے تو ان کو سب سے پہلے یہی آیت ’’قل الحمد لله الذی‘‘ سکھائی جاتی تھی۔( مدارک الاسراء تحت الایۃ: ۱۱۱ ص۶۴۰)