Surah Al Isra Ayat 12 (17:12)
The Night Journey · Juz 15 · Makki
وَ جَعَلْنَا الَّیْلَ وَ النَّهَارَ اٰیَتَیْنِ فَمَحَوْنَاۤ اٰیَةَ الَّیْلِ وَ جَعَلْنَاۤ اٰیَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَؕ-وَ كُلَّ شَیْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِیْلًا 12
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا پھر ہم نے رات کی نشانی کو مٹاہو اکیا اور دن کی نشانی کو دیکھنے والی بنایا تا کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو اور تا کہ تم سالوں کی گنتی اور حساب جان لو اور ہم نے ہر چیز کوخوب جدا جدا تفصیل سے بیان کردیا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا تو رات کی نشانی مٹی ہوئی رکھی اور دن کی نشانی دکھانے والی کی کہ اپنے ربّ کا فضل تلاش کرو اور برسوں کی گنتی اور حساب جانو اور ہم نے ہر چیز خوب جدا جدا ظاہر فرمادی۔
Tafseer (Urdu)
{ ایتین: دونشانیاں ۔} اس ایت میں اللہ عزوجل نے اپنی قدرت کی دو عظیم نشانیاں بیان فرمائیں اور وہ دو نشانیاں دن اور رات ہیں چنانچہ فرمایا کہ ہم نے رات کی نشانی کو مٹا ہوا بنایا یعنی رات کو تاریک بنایا کہ اس میں ہر چیز چھپ جاتی ہے اور تاریک بنانے کا مقصد یہ ہے کہ اس میں آرام کیا جائے جبکہ دن کو روشن بنایا تاکہ اس میں سب چیزیں نظریں آئیں اور تم اللہ عزوجل کا فضل یعنی اپنی روزی اسانی سے کما سکو۔(مدارک الاسراء تحت الایۃ: ۱۲ ص۶۱۸ جلالین الاسراء تحت الایۃ: ۱۲ ص۲۳۱ ملتقطا) ایت’’لتبتغوا فضلا من ربكم‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات: اس ایت سے دو باتیں معلوم ہوئیں : (1)…بیکار رہنا اورکمائی نہ کرنا بہت نامناسب ہے اللہ تعالی نے ہاتھ پاوں برتنے کو دئیے ہیں ا س لئے انہیں بیکار نہیں کرنا چاہیے۔ اس سے ان لوگوں کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے جو ہاتھ پاوں اور دیگر جسمانی اعضا سلامت ہونے اور کمائی کرنے پر قدرت رکھنے کے باوجود اپنوں یا پرایوں سے مانگ کر گزارہ کرتے ہیں ۔ (2)… رزق حقیقت میں اللہ تعالی کا فضل ہے محض ہماری کمائی کا نتیجہ نہیں اس لئے ہر ایک کو چاہئے کہ وہ اپنے ہنر و کمال پر ناز نہ کرے بلکہ اللہ تعالی کے فضل اور اس کی رحمت پر نگاہ رکھے۔اپنی محنت کر کے اللہ تعالی کے فضل پر نگاہ رکھنا ہی توکل ہے۔ {لتعلموا عدد السنین و الحساب: تاکہ تم سالوں کی گنتی اور حساب جان لو۔} یعنی رات اور دن کی تخلیق کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ رات اوردن کے دورے سے تم دنوں کا حساب بناتے ہو پھر دنوں سے ہفتے اور مہینے اورپھر سال بنتے ہیں تو گویا یہ نظام تمہاری زندگی کو سہولتیں فراہم کرنے کیلئے ہے اور اسی دن رات کی تبدیلی سے تم دینی و دنیوی کاموں کے اوقات کاحساب لگاتے ہو۔(روح البیان الاسراء تحت الایۃ: ۱۲ ۵ / ۱۳۹ ملخصا) {و كل شیء فصلنه تفصیلا:اور ہم نے ہر چیز کوخوب جدا جدا تفصیل سے بیان کردیا۔} یعنی ہم نے قران میں ہر چیز کو تفصیل سے بیان فرمادیا خواہ اس کی حاجت تمہیں دین میں ہو یا دنیا کے کاموں میں ۔ مقصد یہ ہے کہ ہرایک چیز کی تفصیل بیان فرمادی جیسا کہ دوسری آیت میں ارشاد فرمایا ’’ ما فرطنا فی الكتب من شیء‘‘(انعام:۳۸) ترجمہ کنزالعرفان:ہم نے اس کتاب میں کسی شے کی کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ نیز ایک اور آیت میں ارشاد کیا ’’و نزلنا علیك الكتب تبیانا لكل شیء‘‘(النحل:۸۹) ترجمہ کنزالعرفان:اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا جو ہر چیز کا روشن بیان ہے۔( خازن الاسراء تحت الایۃ: ۱۲ ۳ / ۱۶۸ جمل الاسراء تحت الایۃ: ۱۲ ۴ / ۳۰۱ ملتقطا) غرض ان آیات سے ثابت ہے کہ قرآن کریم میں جمیع اشیاء کا بیان ہے سبحان اللہ عزوجل! کیا کتاب ہے اور کیسی اس کی جامعیت ہے اس کی کچھ جھلک دیکھنی ہو تو اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃاللہ تعالی علیہ کی عظیم الشان کتاب ’’انباء الحی ان کلامہ المصون تبیان لکل شی‘‘(قران ہر چیز کا بیان ہے) کا مطالعہ فرمائیں جس میں اپ رحمۃاللہ تعالی علیہ نے انتہائی شاندار انداز میں علوم قران کی وسعت کا بیان فرمایا ہے۔