Surah Al Isra Ayat 16 (17:16)
The Night Journey · Juz 15 · Makki
وَ اِذَاۤ اَرَدْنَاۤ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْیَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِیْهَا فَفَسَقُوْا فِیْهَا فَحَقَّ عَلَیْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِیْرًا 16
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں توہم اس کے خوشحال لوگوں کو احکام بھیجتے ہیں پھر وہ اس بستی میں نافرمانی کرتے ہیں تو اس بستی پر بات پوری ہوجاتی ہے تو ہم اسے تباہ وبرباد کردیتے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں اس کے خوشحالوں پر احکام بھیجتے ہیں پھر وہ اس میں بے حکمی کرتے ہیں تو اس پر بات پوری ہوجاتی ہے تو ہم اسے تباہ کرکے برباد کردیتے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{و اذا اردنا: اور جب ہم ارادہ کرتے ہیں ۔} اس ایت میں اللہ تعالی نے گزشتہ اقوام کا اجمالی حال اور گمراہ قوموں کا مزاج بیان فرمایا ہے کہ کس طرح وہ مرحلہ وار سزا و عذاب کے مستحق ہوتے ہیں چنانچہ ارشاد فرمایا کہ ایسا نہیں ہوتا کہ بغیر کسی رہنمائی اور مہلت کے انہیں عذاب میں مبتلا کردیا جاتا ہے بلکہ ہوتا یہ ہے کہ سب سے پہلے تو ہم قوم کے سرداروں اور خوشحال لوگوں کو اپنے رسولوں علیہم الصلوۃ والسلام کے ذریعے احکام بھیجتے ہیں تاکہ لوگ اللہ عزوجل کی فرمانبرداری کی طرف ائیں اور احکامات الہیہ پرعمل پیر اہوں لیکن زیادہ تر یہی ہوا کہ سرداروں اور مالداروں نے رسول کی بارگاہ میں سر جھکانے کی بجائے نافرمانی کا راستہ اختیار کیا جس کے نتیجے میں وہ عذاب کے مستحق بنے اور عذاب الہی کا فیصلہ ان پر صادق ایا اور وہ تباہ و برباد ہوئے۔ قوم کے سرداروں کو انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے: اس ایت میں سرداروں کا بطور خاص ذکر کیا گیا کیونکہ عوام اپنے سرداروں کے ہی پیچھے چلتے ہیں جو وہ کرتے ہیں عوام وہی کرتی ہے اس سے معلوم ہوا کہ سرداران قوم کو بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے کہ ان کی غلطی عام ادمی کی غلطی سے بہت بڑھ کر ہوتی ہے۔