Surah Al Isra Ayat 19 (17:19)
The Night Journey · Juz 15 · Makki
وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىٕكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا 19
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جو آخرت چاہتا ہے اوراس کیلئے ایسی کوشش کرتا ہے جیسی کرنی چاہیے اور وہ ایمان والا بھی ہو تو یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوشش کی قدر کی جائے گی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جو آخرت چاہے اور اس کی سی کوشش کرے اور ہو ایمان والا تو انہیں کی کوشش ٹھکانے لگی۔
Tafseer (Urdu)
{و من اراد الاخرة: اور جو اخرت چاہے۔} اس سے پہلی ایت میں طالب دنیا کا بیان کیا گیا جبکہ اس ایت میں طالب اخرت کا بیان ہے چنانچہ ارشاد فرمایا کہ جو آخرت کا طلبگار ہے اور اس کیلئے ایسی کوشش کرتا ہے جیسی کرنی چاہیے یعنی نیک اعمال بجالاتا ہے اور وہ ایمان والا بھی ہو تو یہ وہ ادمی ہے جس کا عمل مقبول ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے اعمال کا اچھا صلہ دیا جائے گا۔ عمل کی مقبولیت کے لئے درکار تین چیزیں : اس ایت میں مومن ہونے کی شرط کا بیان ہے اس سے معلوم ہوا کہ ایمان کے بغیر کوئی نیکی قبول نہیں نیکیوں کے لئے ایمان ایسا ضروری ہے جیسے نماز کے لئے وضو یا بہترین غذا کے لئے زہر سے خالی ہونا۔ ایمان جڑ ہے اور اعمال اس کی شاخیں ۔ صدر الافاضل مفتی نعیم الدین مراد ابادی رحمۃاللہ تعالی علیہ نے یہاں بڑی پیاری بات ارشاد فرمائی کہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ عمل کی مقبولیت کے لئے تین چیزیں درکار ہیں : ایک تو طالب آخرت ہونا یعنی نیت نیک۔ دوسرے سعی یعنی عمل کو باہتمام اس کے حقوق کے ساتھ ادا کرنا۔ تیسری ایمان جو سب سے زیادہ ضروری ہے۔( خزائن العرفان بنی اسرائیل تحت الایۃ: ۱۹ ص۵۲۹)