Surah Al Isra Ayat 20 (17:20)
The Night Journey · Juz 15 · Makki
كُلًّا نُّمِدُّ هٰۤؤُلَآءِ وَ هٰۤؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّكَؕ-وَ مَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا 20
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariہم آپ کے رب کی عطا سے اِن (دنیا کے طلبگاروں ) اور اُن ( آخرت کے طلبگاروں )سب کی مدد کرتے ہیں اور تمہارے رب کی عطا پر کوئی روک نہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanہم سب کو مدد دیتے ہیں ان کو بھی اور ان کو بھی تمہارے رب کی عطا سے اور تمہارے رب کی عطا پر روک نہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{كلا نمد: ہم سب کی مدد کرتے ہیں ۔} اس ایت میں ارشاد فرمایا کہ جو دنیا چاہتے ہیں اور جو طالب آخرت ہیں ہم سب کی مدد کرتے ہیں ۔( خازن الاسراء تحت الایۃ: ۲۰ ۳ / ۱۷۰) چنانچہ دیکھ لیں کہ کفار اللہ عزوجل کے دشمن ہیں لیکن وہ چونکہ دنیا کے طالب ہیں اور اس کیلئے کوشش کرتے ہیں تو اللہ تعالی نے انہیں بھی عطا فرمایا ہے بلکہ ہمارے زمانے میں تودنیوی ترقی میں وہ مسلمانوں سے بہت اگے ہیں اور یونہی جو مسلمان محنت کرتا ہے وہ بھی اپنی محنت کا صلہ پاتا ہے ۔ الغرض دنیا میں اللہ عزوجل سب کو عطا فرما رہا ہے سب کو روزی مل رہی ہے دنیا میں سب اس سے فیض اٹھاتے ہیں نیک ہوں یا بد البتہ انجام ہر ایک کا اس کے حسب حال ہوگا اور اگلی ایت میں فرمایا کہ دیکھو! ہم نے ان میں ایک کو دوسرے پر مال عزت شہرت کمال میں بڑائی دی ہے لیکن ان تمام چیزوں کے ساتھ یہ حقیقت ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ درجات اور فضیلت کے اعتبار سے اخرت ہی سب سے بڑی چیز ہے ۔