Surah Al Isra Ayat 32 (17:32)
The Night Journey · Juz 15 · Makki
وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةًؕ-وَ سَآءَ سَبِیْلًا 32
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور بدکاری کے پاس نہ جاؤ بیشک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی برا راستہ ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بدکاری کے پاس نہ جاؤبیشک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی بُری راہ۔
Tafseer (Urdu)
{و لا تقربوا الزنى: اور بدکاری کے پاس نہ جاو۔} اس ایت میں دوسرے گناہ کی حرمت و خباثت کو بیان کیا گیا ہے اور وہ ہے’’زنا‘‘ اسلام بلکہ تمام اسمانی مذاہب میں زنا کو بدترین گناہ اور جرم قرار دیا گیاہے ۔ یہ پرلے درجے کی بے حیائی اور فتنہ و فساد کی جڑ ہے بلکہ اب تو ایڈز کے خوفناک مرض کی شکل میں اس کے دوسرے نقصانات بھی سامنے ارہے ہیں جس ملک میں زنا کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے وہیں ایڈز پھیلتا جارہا ہے۔ یہ گویا دنیا میں عذاب الہی کی ایک صورت ہے۔ زنا کی مذمت پر5احادیث: یہاں ایت کی مناسبت سے زنا کی مذمت پر 5 احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں (1)…حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جب مرد زنا کرتا ہے تو اس سے ایمان نکل کر سر پر سائبان کی طرح ہوجاتا ہے جب اس فعل سے جدا ہوتا ہے تواس کی طرف ایمان لوٹ اتا ہے۔(ابوداود کتاب السنۃ باب الدلیل علی زیادۃ الایمان ونقصانہ ۴ / ۲۹۳ الحدیث: ۴۶۹۰) (2)… حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’تین شخصوں سے اللہ تعالی نہ کلام فرمائے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور نہ ان کی طرف نظر رحمت فرمائے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ (1) بوڑھازانی۔(2)جھوٹ بولنے والا بادشاہ (3)تکبر کرنے والا فقیر۔ (مسلم کتاب الایمان باب بیان غلظ تحریم اسبال الازار والمن بالعطیۃ۔۔۔ الخ ص۶۸ الحدیث: ۱۷۲(۱۰۷)) (3)…حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے ارشاد فرمایا ’’زنا کے بارے میں تم کیا کہتے ہو ‘‘ انہوں نے عرض کی: زنا حرام ہے اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اسے حرام کیا ہے اور وہ قیامت تک حرام رہے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’دس عورتوں کے ساتھ زنا کرنا اپنے پڑوسی کی عورت کے ساتھ زنا کرنے (کے گناہ) سے ہلکا ہے۔(مسند امام احمد مسند الانصار بقیۃ حدیث المقداد بن الاسود رضی اللہ عنہ ۹ / ۲۲۶ الحدیث: ۲۳۹۱۵) (4)…حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’میری امت اس وقت تک بھلائی پر رہے گی جب تک ان میں زنا سے پیدا ہونے والے بچے عام نہ ہو جائیں گے اور جب ان میں زنا سے پیدا ہونے والے بچے عام ہو جائیں گے تو اللہ تعالی انہیں عذاب میں مبتلا فرما دے گا۔(مسند امام احمد مسند الانصار حدیث میمونۃ بنت الحارث الہلالیۃ زوج النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۱۰ / ۲۴۶ الحدیث: ۲۶۸۹۴) (5)…صحیح بخاری میں حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ایک طویل حدیث ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ میں نے رات کے وقت دیکھا کہ دوشخص میرے پاس ائے اور مجھے مقدس سر زمین کی طرف لے گئے (اس حدیث میں چند مشاہدات بیان فرمائے ان میں ایک یہ بات بھی ہے) ہم ایک سوراخ کے پاس پہنچے جو تنور کی طرح اوپر سے تنگ ہے اور نیچے سے کشادہ اس میں اگ جل رہی ہے اور اس اگ میں کچھ مرد اور عورتیں برہنہ ہیں ۔ جب اگ کا شعلہ بلند ہوتا ہے تو وہ لوگ اوپر اجاتے ہیں اور جب شعلے کم ہو جاتے ہیں تو شعلے کے ساتھ وہ بھی اندر چلے جاتے ہیں (یہ کون لوگ تھے ان کے متعلق بیان فرمایا) یہ زانی مرد اور عورتیں ہیں ۔( بخاری کتاب الجنائز ۹۳-باب ۱ / ۴۶۷ الحدیث: ۱۳۸۶) زنا کی عادت سے بچنے کے اسان نسخے: اس بری عادت سے محفوظ رہنے یا نجات پانے کے اسان نسخے سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمائے ہیں ۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’اے جوانو! تم میں جوکوئی نکاح کی استطاعت رکھتا ہے وہ نکاح کرے کہ یہ اجنبی عورت کی طرف نظر کرنے سے نگاہ کو روکنے والا ہے اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا ہے اور جس میں نکاح کی استطاعت نہیں وہ روزے رکھے کہ روزہ شہوت کو توڑنے والا ہے۔(بخاری کتاب النکاح باب من لم یستطع الباءۃ فلیصم ۳ / ۴۲۲ الحدیث: ۵۰۶۶) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ بے شک عورت ابلیس کے تیروں میں سے ایک تیر ہے جس نے کسی حسن و جمال والی عورت کو دیکھا اور وہ اسے پسند اگئی پھر ا س نے اللہ تعالی کی رضا حاصل کرنے کی خاطر اپنی نگاہوں کو اس سے پھیر لیاتو اللہ تعالی اسے ایسی عبادت کی توفیق عطا فرمائے گا جس کی لذت اسے حاصل ہوگی۔( جمع الجوامع قسم الاقوال حرف الہمزۃ ۳ / ۴۶ الحدیث: ۷۲۰۱) بدکاری سے بچنے اور اس سے نفرت پیدا کرنے کا ایک طریقہ درج ذیل حدیث میں بھی موجود ہے اگر اس حدیث پر غور کرتے ہوئے اپنی ذات پر غور کریں تو دل میں اس گناہ سے ضرور نفرت پیدا ہوگی۔ چنانچہ حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’ ایک نوجوان بارگاہ رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں حاضر ہوا اورا س نے عرض کی: یا رسول اللہ ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممجھے زنا کرنے کی اجازت دے دیجئے۔یہ سن کر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اسے مارنے کے لئے اگے بڑھے اور کہنے لگے ٹھہر جاو ٹھہر جاو۔ رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’اسے میرے قریب کر دو۔ وہ نوجوان حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے قریب پہنچ کر بیٹھ گیا۔ حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس سے فرمایا ’’کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ تمہاری ماں کے ساتھ کوئی ایسا فعل کرے اس نے عرض کی: یا رسول اللہ !صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم خدا کی قسم! میں ہر گز یہ پسند نہیں کرتا۔ تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگ بھی یہ پسند نہیں کرتے کہ کوئی ان کی ماں کے ساتھ ایسی بری حرکت کرے۔پھر ارشاد فرمایا ’’کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ تمہاری بیٹی کے ساتھ کوئی یہ کام کرے۔ اس نے عرض کی:یا رسول اللہ !صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اللہ کی قسم! میں ہر گز یہ پسند نہیں کرتا۔ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگ بھی یہ پسند نہیں کرتے کہ کوئی ان کی بیٹی کے ساتھ ایساقبیح فعل کرے۔ پھر ارشاد فرمایا ’’کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ تمہاری بہن کے ساتھ کوئی یہ حرکت کرے۔ اس نے عرض کی:یا رسول اللہ !صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم خدا کی قسم! میں ہر گز اسے پسند نہیں کرتا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگ بھی یہ پسند نہیں کرتے کہ کوئی ان کی بہن کے ساتھ ایسے گندے کام میں مشغو ل ہو۔ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے پھوپھی اور خالہ کا بھی اسی طرح ذکر کیا اور اس نوجوان نے یونہی جواب دیا۔ اس کے بعد حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس کے سینے پر اپنا دست مبارک رکھ کر دعا فرمائی ’’اللہم اغفر ذنبہ وطہر قلبہ وحصن فرجہ‘‘ اے اللہ !اس کے گناہ بخش دےاس کے دل کو پاک فرما دے اور اس کی شرمگاہ کو محفوظ فرما دے۔ اس دعا کے بعد وہ نوجوان کبھی زنا کی طرف مائل نہ ہوا۔(مسند امام احمد مسند الانصار حدیث ابی امامۃ الباہلی۔۔۔ الخ ۸ / ۲۸۵ الحدیث: ۲۲۲۷۴)