Surah Al Isra Ayat 33 (17:33)
The Night Journey · Juz 15 · Makki
وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّؕ-وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهٖ سُلْطٰنًا فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِؕ-اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا 33
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جس جان کی اللہ نے حرمت رکھی ہے اسے ناحق قتل نہ کرو اور جو مظلوم ہوکر مارا جائے تو ہم نے اس کے وارث کو قابو دیا ہے تووہ وارث قتل کا بدلہ لینے میں حد سے نہ بڑھے۔ بیشک اس کی مدد ہونی ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کوئی جان جس کی حرمت اللہ نے رکھی ہے ناحق نہ مارو اور جو ناحق مارا جائے تو بیشک ہم نے اس کے وارث کو قابو دیا ہے تو وہ قتل میں حد سے نہ بڑھے ضرور اس کی مدد ہونی ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و لا تقتلوا: اور قتل نہ کرو۔} اس ایت میں تیسرے کبیرہ گناہ یعنی قتل ناحق کا بیان ہے ۔ اسلام میں انسانی جان کی بے پناہ حرمت ہے اور کسی انسان کو قتل کرنا شدید کبیرہ گناہ ہے اور اس کی محدود صورتوں کے علاوہ کسی بھی طرح اجازت نہیں ۔ یہاں قتل کی ممانعت و حرمت کے ساتھ اس کی اجازت کی ایک صورت بیان فرمائی گئی ہے اور وہ ہے کسی کو قصاص میں قتل کرنا یعنی قتل کے بدلے قتل اور یہ بھی عدالت کے فیصلے کے بعد ہے یہ نہیں کہ بغیر کورٹ کے فیصلے کے خود ہی قصاص لیتے پھریں اس کی ہرگز ہرگز اجازت نہیں ۔ پھر قصاص میں قتل کی اجازت کے ساتھ اس کی بھی حدود و قیود بیان فرمائی ہیں کہ قصاص میں قتل کرنے میں بھی مقتول کا وارث حد سے نہ بڑھے جیسے زمانہ جاہلیت میں ایک مقتول کے عوض میں کئی کئی لوگوں کو قتل کردیا جاتا تو فرمایا گیا کہ صرف قاتل سے قصاص لیا جائے گا کسی اور سے نہیں ۔ ایت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ قصاص لینے کا حق ولی کو ہے اور ولی میں وہی ترتیب ہے جو عصبات (رشتے داروں کی ایک خاص قسم) میں ہے اور جس کا ولی نہ ہو اس کا ولی سلطان ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ قصاص حق العبد ہے اگر ولی چاہے تو معاف کردے ۔ ایت کے اخر میں فرمایا گیا کہ بیشک اس کی مدد ہونی ہے یعنی ولی کی یا مقتول مظلوم کی یا اس شخص کی جس کو ولی ناحق قتل کرے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ اسلام میں انسانی جان کی کس قدر حرمت بیان کی گئی ہے اور اج ہمارے معاشرے کا حال یہ ہے کہ جس کا دل کرتا ہے وہ بندوق اٹھاتا ہے اور جس کو دل کرتا ہے قتل کردیتا ہے کہیں سیاسی وجوہات سے تو کہیں علاقائی اور صوبائی تعصب کی وجہ سے یونہی کہیں زبان کے نام پر تو کہیں فرقہ بندی کے نام پر۔ ان میں سے کوئی بھی صورت جائز نہیں ہے۔ قتل کی اجازت صرف مخصوص صورتوں میں حاکم اسلام کو ہے اور کسی کو نہیں ۔