Surah Al Isra Ayat 34 (17:34)
The Night Journey · Juz 15 · Makki
وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّه۪ٗ-وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا 34
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر اسی طریقے سے جو سب سے اچھا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی پکی عمر کو پہنچ جائے اور عہد پورا کرو بیشک عہد کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر اس راہ سے جو سب سے بھلی ہے یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچے اور عہد پورا کرو بیشک عہد سے سوال ہونا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و لا تقربوا مال الیتیم:اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاو۔} اس ایت میں ایک کبیرہ گناہ سے منع کیا گیا ہے اور ایک اہم چیز کا حکم دیا گیا ہے۔ کبیرہ گناہ تو یتیم کے مال میں خیانت کرنا ہے اور اہم چیز وعدہ پورا کرنا ہے۔ یتیم کا کل یا بعض مال غصب کرلینا اس میں خیانت کرنا اس کے دینے میں بلاوجہ ٹال مٹول کرنا یہ سب حرام ہے چنانچہ فرمایا کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جاو مگر صرف اچھے طریقے سے اور وہ یہ ہے کہ اس کی حفاظت کرو اور اس کو بڑھاؤ۔ اس سے معلوم ہوا کہ یتیم کا ولی یتیم کے مال سے تجارت وغیرہ کر سکتا ہے جس سے اس کا مال بڑھے کہ یہ احسن میں داخل ہے اور ایسے ہی اس کا روپیہ سود کے بغیر بینک وغیرہ میں اس کے نام پر رکھنا جائز ہے کہ یہ حفاظت کی قسم ہے۔ دوسرا حکم یہاں ارشاد فرمایا کہ یتیموں کا مال ان کے حوالے کردو جب وہ یتیم اپنی پختہ عمر کو پہنچ جائے اور وہ اٹھارہ سال کی عمر ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کے نزدیک یہی مختار ہے اور امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے علامات ظاہر نہ ہونے کی حالت میں انتہائی مدت بلوغ اسی ایت سے استدلال کرکے اٹھارہ سال قرار دی ہے۔(تفسیرات احمدیہ بنی اسرائیل تحت الایۃ: ۳۴ ص۵۰۸) {و اوفوا بالعهد: اور عہد پورا کرو۔} ایت میں عہد پورا کرنے کا حکم دیا گیاہے خواہ وہ اللہ عزوجل کا ہو یا بندوں کا۔ اللہ عزوجل سے عہد اس کی بندگی اور اطاعت کرنے کا ہے(روح البیان الاسراء تحت الایۃ: ۳۴ ۵ / ۱۵۵ خازن الاسراء تحت الایۃ: ۳۴ ۳ / ۱۷۴ ملتقطا)اور بندوں سے عہد میں ہر جائز عہد داخل ہے۔افسوس کہ وعدہ پورا کرنے کے معاملے میں بھی ہمارا حال کچھ اچھا نہیں بلکہ وعدہ خلافی کرنا ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے۔ لیڈر قوم سے عہد کرکے توڑ دیتے ہیں اور لوگ ایک دوسرے سے عہد کرکے توڑ دیتے ہیں ۔