Surah Al Isra Ayat 36 (17:36)
The Night Journey · Juz 15 · Makki
وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌؕ-اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـٴُـوْلًا 36
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے سوال ہونا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و لا تقف ما لیس لك به علم:اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں ۔} یعنی جس چیز کو دیکھا نہ ہو اس کے بارے میں یہ نہ کہو کہ میں نے دیکھا ہے اور جس بات کو سنا نہ ہو اس کے بارے میں یہ نہ کہو کہ میں نے سنا ہے۔ ایک قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جھوٹی گواہی نہ دو۔ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہمانے فرمایا ’’اس سے مراد یہ ہے کہ کسی پرو ہ الزام نہ لگاؤ جو تم نہ جانتے ہو۔(مدارک الاسراء تحت الایۃ: ۳۶ ص۶۲۳) ابو عبداللہ محمد بن احمد قرطبی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’خلاصہ یہ ہے کہ ا س ایت میں جھوٹی گواہی دینے جھوٹے الزامات لگانے اور اس طرح کے دیگر جھوٹے اقوال کی ممانعت کی گئی ہے۔(تفسیرقرطبی الاسراء تحت الایۃ: ۳۶ ۵ / ۱۸۷ الجزء العاشر) جھوٹی گواہی دینے اور غلط الزامات لگانے کی مذمت پر احادیث: یہاں جھوٹی گواہی دینے اور غلط الزامات لگانے کی مذمت پر 3 روایات ملاحظہ ہوں: (1)…حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہماسے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ جھوٹے گواہ کے قدم ہٹنے بھی نہ پائیں گے کہ اللہ تعالی اس کے لیے جہنم واجب کر دے گا۔(ابن ماجہ کتاب الاحکام باب شہادۃ الزور ۳ / ۱۲۳ الحدیث: ۲۳۷۳) (2)… حضرت معاذ بن انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جو کسی مسلمان کو ذلیل کرنے کی غرض سے اس پر الزام عائد کرے تو اللہ تعالی جہنم کے پل پر اسے روک لے گا یہاں تک کہ اپنے کہنے کے مطابق عذاب پا لے۔(ابوداود کتاب الادب باب من رد عن مسلم غیبۃ ۴ / ۳۵۴ الحدیث: ۴۸۸۳) (3)…حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جو کسی مسلمان پر ایسی چیز کا الزام لگائے جس کے بارے میں وہ خود بھی جانتا نہ ہو تو اللہ تعالی اسے (جہنم کے ایک مقام) ’’ردغۃ الخبال‘‘ میں اس وقت تک رکھے گا جب تک کہ اپنے الزام کے مطابق عذاب نہ پالے۔(کتاب الجامع فی اخر المصنف باب من حلت شفاعتہ دون حد۱۰ / ۳۵۳ الحدیث: ۲۱۰۶۹) اس ایت اور دیگر روایات کو سامنے رکھنے کی شدید حاجت ہے کیونکہ اج کل الزام تراشی کرنا اس قدر عام ہے کہ کوئی حد ہی نہیں جس کا جو دل کرتا ہے وہ دوسروں پر الزام لگادیتا ہے جگہ جگہ ذلیل کرتا ہے اور ثبوت مانگیں تو یہ دلیل کہ میں نے کہیں سنا تھا یا مجھے کسی نے بتایا تھا اب کس نے بتایا بتانے والا کتنا معتبر تھا اس کو کہاں سے پتہ چلا اس کے پاس کیا ثبوت ہیں کوئی معلوم نہیں ۔ {كل اولىك كان عنه مسـٴـولا:ان سب کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔}ایت کے اخر میں فرمایا کہ کان انکھ اور دل سب کے بارے میں سوال کیا جائے گا کہ تم نے ان سے کیا کام لیا کان کو قران وحدیث سننے علم و حکمت اور وعظ و نصیحت کی اور ان کے علاوہ دیگر نیک باتیں سننے میں استعمال کیا یا غیبت سننے لغو اور بیکار باتیں سننے جماع کی باتیں سننے بہتان زنا کی تہمت گانے باجے اور فحش سننے میں لگایا۔ یونہی انکھ سے جائز و حلال کو دیکھا یا فلمیں ڈرامے دیکھنے اور بدنگاہی کرنے میں استعمال کیا اور دل میں صحیح عقائد اور اچھے اور نیک خیالات و جذبات تھے یاغلط عقائد اور گندے منصوبے اور شہوت سے بھرے خیالات ہی ہوتے تھے۔ اس ایت کی مناسبت سے ایک مسئلہ بھی ہے کہ خیال ہی خیال میں کسی عورت سے بدکاری کرنا بھی حرام ہے اور یہ دل کے زنا میں داخل ہوگا۔