Surah Al Isra Ayat 37 (17:37)
The Night Journey · Juz 15 · Makki
وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا 37
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور زمین میں اتراتا نہ چل بیشک تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا۔
Tafseer (Urdu)
{و لا تمش فی الارض مرحا:اور زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل۔} یعنی تکبر و خود نمائی سے نہ چل۔( جلالین الاسراء تحت الایۃ: ۳۷ ص۲۳۳) اسلام ہماری معاشرت اور رہن سہن کے طریقے بھی سکھاتا ہے: یاد رہے کہ فخر و تکبر کی چال اور متکبرین کی سی بیٹھک وغیرہ سب ممنوع ہیں ہمارے چلنے پھرنے بیٹھنے اٹھنے میں تواضع اور انکساری ہونی چاہیے گفتگو نرم ہو اور چلنا اہستگی اور وقار کے ساتھ ہو ۔ متکبرانہ اور اوباشوں اور لفنگوں والی چال اللہ عزوجل کو ناپسند ہے۔ اس ایت سے معلوم ہوا کہ اسلام ہمیں صرف عقائد و عبادات ہی کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ ہماری معاشرت اور رہن سہن کے طریقے بھی ہمیں بتاتا ہے۔ مسلمان کی زندگی کے ہر پہلو سے اسلامی پہلو کی جھلک نظر انی چاہیے۔ ان مسلمانوں پر افسوس ہے جنہیں کفار کے طریقوں پر عمل کرنے میں تو فخر محسوس ہوتا ہے اور اسلامی طریقے اپنانے میں شرم محسوس ہوتی ہے۔ ایت میں فرمایا گیا کہ زمین میں اتراتے ہوئے نہ چل بیشک توہر گز نہ زمین کو پھاڑ دے گا اور نہ ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ جائے گا۔ معنی یہ ہیں کہ تکبر و خود نمائی سے کچھ فائدہ نہیں البتہ کئی صورتوں میں گناہ لازم ہو جاتا ہے لہذا اترانا چھوڑو اور عاجزی و انکساری قبول کرو۔ چلنے کی چند سنتیں اور اداب یہاں ایت کی مناسبت سے چلنے کی چند سنتیں اور اداب یاد رکھیں : (1)…اگر موقع ہو تو راستے کے کنارے کنارے چلیں ۔ (2)…نہ اتنا تیز چلیں کہ لوگوں کی نظریں اٹھیں نہ اتنا اہستہ کہ اپ مریض معلوم ہوں بلکہ درمیانی چال چلیں ۔ (3)…لفنگوں کی طرح گریبان کھول کر اکڑتے ہوئے ہر گز نہ چلیں کہ یہ شرفا کی چال نہیں بلکہ احمقوں اور مغروروں کی چال ہے۔ (4)… چلنے میں یہ بھی احتیاط کریں کہ جوتے کی اواز پیدا نہ ہو ۔ (5)… راہ چلنے میں پریشان نظری یعنی ادھر ادھر دیکھنے سے بچیں ۔ (6)…راستے میں دو عورتیں کھڑی ہوں یا جا رہی ہوں تو ان کے بیچ میں سے نہ گزریں ۔ (7)…پھدکتے ہوئے بازاری انداز میں نہ چلیں بلکہ نظریں نیچی کئے ہوئے پروقار طریقے پر چلیں ۔