Surah Al Isra Ayat 42 (17:42)
The Night Journey · Juz 15 · Makki
قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا یَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِی الْعَرْشِ سَبِیْلًا 42
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم فرماؤ:جیسا کافر کہہ رہے ہیں اس طرح اگر اللہ کے ساتھ اور معبود ہوتے جب تو وہ عرش کے مالک کی طرف کوئی راہ ڈھونڈ نکالتے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم فرماؤ اگر اس کے ساتھ اور خدا ہوتے جیسا یہ بکتے ہیں جب تو وہ عرش کے مالک کی طرف کوئی راہ ڈھونڈ نکالتے۔
Tafseer (Urdu)
{قل: تم فرماو۔}اس ایت میں اللہ عزوجل نے اپنی توحید کی ایک قطعی مگر نہایت عام فہم دلیل بیان فرمائی ہے کہ بالفرض اگر دو خدا ہوتے تو ان میں ایک کادوسرے سے ٹکراو لازمی طور پر ممکن ہوتا جیسے ان میں سے ایک ارادہ کرتا کہ زید حرکت کرے اور دوسرا ارادہ کرتا ہے کہ وہ ساکن رہے ۔اب حرکت اور سکون دونوں چیزیں فی نفسہ ممکن تو ہیں اسی طرح دو خداوں کا حرکت اور سکون میں سے ہر ایک چیز کا ارادہ کرنا بھی ممکن ہے لیکن دونوں کے ارادے کے بعد ہوتا کیا اگر ان کے ارادوں کے مطابق حرکت اور سکون دونوں چیزیں واقع ہوں تو دو متضاد چیزوں کا جمع ہونا لازم ائے گا اور اگر دونوں واقع نہ ہوں تو ان خداوں کا عاجز ہونا لازم ائے گا اور اگر ایک واقع ہو دوسری نہ ہو تو دونوں میں سے ایک خدا کا عاجز ہونا لازم ائے گا اور جو عاجز ہے وہ خدا نہیں کیونکہ عاجز ہونا محتاجی اور نقص ہے اور وا جب الوجود ہونے کے منافی ہے تو ثابت ہوا کہ دو خدا ہونا ہی محال ہے ۔