Surah Al Isra Ayat 41 (17:41)
The Night Journey · Juz 15 · Makki
وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِیَذَّكَّرُوْاؕ-وَ مَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا 41
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور بیشک ہم نے اس قرآن میں طرح طرح سے بیان فرمایا تاکہ وہ سمجھیں اور یہ سمجھاناان کے دور ہونے کو ہی بڑھا رہا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بیشک ہم نے اس قرآن میں طرح طرح سے بیان فرمایا کہ وہ سمجھیں اور اس سے انھیں نہیں بڑھتی مگر نفرت۔
Tafseer (Urdu)
{فی هذا القران: اس قران میں ۔} اس رکوع میں عقائد اسلامیہ میں سے چاروں اہم ترین بنیادی عقائد کو بیان کیا گیا ہے پہلے قران کے بارے میں پھر توحید باری تعالی کے بارے میں پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے بارے میں اور پھر قیامت کے بارے میں ۔ سب سے پہلے قران کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے اس قرآن میں نصیحت کی باتیں بار بار بیان فرمائیں اور کئی طرح سے بیان فرمائیں جیسے کہیں دلائل سے تو کہیں مثالوں سے کہیں حکمتوں سے اور کہیں عبرتوں سے اور ان مختلف اندازوں میں بیان کرنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ لوگ کسی طرح نصیحت و ہدایت کی طرف ائیں اور سمجھیں ۔ یہاں قران پا ک نے علم نفسیات کے ایک اصول کو بیان فرما دیا کہ لوگوں سے ان کی ذہنی صلاحیتوں کے مطابق کلام کیا جائے کیونکہ بعض لوگ دلائل سے مانتے ہیں اور بعض ڈر سے اور کچھ مثالوں سے۔ یونہی بعض اوقات ایک ادمی کی حالت ہی مختلف ہوتی رہتی ہے کسی وقت اسے ڈرا کر سمجھانا مفید ہوتا ہے اور کسی وقت نرمی سے ۔ تو قران پاک نے تمام لوگوں کو ان کے تمام احوال کی رعایت کرتے ہوئے سمجھایا ہے۔ لیکن ایت کے اخر میں فرمایا کہ اس اصلاح و تفہیم نے کفار کی حق سے نفرت میں ہی اضافہ کیا کیونکہ بارش اگرچہ بابرکت ہوتی ہے لیکن اگر کسی جگہ پر گندگی کا ڈھیر ہو تووہاں بدبو میں ہی اضافہ ہوتا ہے۔