Surah Al Isra Ayat 49 (17:49)
The Night Journey · Juz 15 · Makki
وَ قَالُـوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا 49
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور انہوں نے کہا: کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے توکیا واقعی ہمیں نئے سرے سے پیدا کر کے اٹھایا جائے گا؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بولے کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے کیا سچ مچ نئے بن کر اٹھیں گے۔
Tafseer (Urdu)
{و قالوا: اور انہوں نے کہا۔} یہاں سے اخر رکوع تک قیامت کے بارے میں کفار کے عمومی اعتراض اور اس کے جواب کا بیان ہے چنانچہ کفار نے کہا کہ کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے توکیا واقعی ہمیں نئے سرے سے پیدا کر کے اٹھایا جائے گا یہ بات انہوں نے بہت تعجب سے کہی اور مرنے اور خاک میں مل جانے کے بعد زندہ کئے جانے کو انہوں نے بہت بعید سمجھا ۔ اللہ تعالی نے ان کا رد کیا اور اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تم فرماؤ کہ تم پتھر بن جاو یا لوہا یا اس سے بڑی کوئی مخلوق مثلا اسمان بن جاو تب بھی اللہ تعالی تمہیں زندگی دے سکتا ہے یہ سب ایسی چیزیں ہیں کہ زندگی سے دور ہیں اور ان میں کبھی تمہاری طرح روح نہ پھونکی گئی تو اگر اللہ عزوجل چاہے تو ان سب کو بھی زندگی دے سکتا ہے چہ جائیکہ ہڈیاں اورجسم کے ذرے انہیں زندہ کرنا اس کی قدرت سے کیا بعید ہے یہ ہڈیاں اور اجسام تو پہلے بھی زندہ رہ چکے ہیں ۔ لہذا اللہ تبارک وتعالی تمہیں زندہ کرے گا اور پہلی حالت کی طرف واپس فرمائے گا۔ اس کے بعد مزید فرمایا کہ یہ کفار اب کہیں گے:ہمیں دوبارہ کون پیدا کرے گا تم فرماؤ کہ تمہیں وہی دوبارہ پیدا کرے گا جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا۔ یہ سن کر کفار پھر بھی ماننے کی طرف نہیں ائیں گے بلکہ مذاق کے طور پر تعجب کے ساتھ اپنے سر ہلاکر کہیں گے: یہ کب ہوگا تو سرکاردو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے فرمایا گیا کہ تم فرمادو : ہوسکتا ہے کہ یہ نزدیک ہی ہو۔( خازن الاسراء تحت الایۃ: ۴۹-۵۱ ۳ / ۱۷۷ مدارک الاسراء تحت الایۃ: ۴۹-۵۱ ص۶۲۵-۶۲۶ ملتقطا)