Surah Al Isra Ayat 53 (17:53)
The Night Journey · Juz 15 · Makki
وَ قُلْ لِّعِبَادِیْ یَقُوْلُوا الَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُؕ-اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَهُمْؕ-اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِیْنًا 53
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اے حبیب! آپ میرے بندوں سے فرما دیں کہ وہ ایسی بات کہیں جو سب سے اچھی ہو۔ بیشک شیطان لوگوں کے درمیان فساد ڈال دیتا ہے ۔ بیشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور میرے بندوں سے فرماؤ وہ بات کہیں جو سب سے اچھی ہو بیشک شیطان ان کے آپس میں فساد ڈال دیتا ہے بیشک شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و قل: اور اپ فرمادیں ۔} اس ایت کا شان نزول یہ ہے کہ مشرکین مسلمانوں کے ساتھ بدکلامیاں کرتے اور انہیں ایذائیں دیتے تھے انہوں نے سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے اس کی شکایت کی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور مسلمانوں کو بتایا گیا کہ وہ کفار کی جاہلانہ باتوں کا ویسا ہی جواب نہ دیں بلکہ صبر کریں اور انہیں صرف یہ دعا دیدیا کریں یہدیکم اللہ (اللہ تمہیں ہدایت دے۔) یہ حکم یعنی بہرحال صرف صبر ہی کرنا جہاد کے حکم سے پہلے تھا بعد میں منسوخ ہو گیا اور ارشاد فرمایا گیا ’’ یایها النبی جاهد الكفار و المنفقین و اغلظ علیهم(اے غیب کی خبریں دینے والے نبی! کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو)‘‘( توبہ :۷۳)اور ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے حق میں نازل ہوئی ایک کافر نے ان کی شان میں بیہودہ کلمہ زبان سے نکالا تھا اللہ تعالی نے انہیں صبر کرنے اور معاف فرمانے کا حکم دیا۔( خازن الاسراء تحت الایۃ: ۵۳ ۳ / ۱۷۷ خزائن العرفان بنی اسرائیل تحت الایۃ: ۵۳ ملتقطا) بہرحال ایت میں فرمایا گیا کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماپ ایمان والوں سے فرمادیں کہ وہ کافروں سے وہ بات کیا کریں جو نرم ہو یا پاکیزہ ہو ادب اور تہذیب کی ہو ارشاد و ہدایت کی ہو حتی کہ کفار اگر بے ہودگی کریں تو ان کا جواب انہیں کے انداز میں نہ دیا جائے۔ فی زمانہ جہاد کا حکم موجود ہے لیکن وہ حکومت کے انتظام سے ہوتا ہے یہ نہیں کہ اب کوئی کافر کسی مسلمان سے بدکلامی کرے تو یہ اس سے جہاد و قتال شروع کردے بلکہ اب اگر ایسا ہو تو بھی قانونی کاروائی ہی کی جاسکتی ہے۔ ہاں کافر قوم مسلمانوں سے عمومی رویہ یہ بنالے اور اب سلطنت جہاد کا فیصلہ کرے تو وہ جدا حکم ہے۔ اور انفرادی طور پر تو کفار کی بداخلاقی کا جواب اخلاق سے دینا اب بھی سنت ہے۔ ہمیں حکم ہے کہ دلیل توقوی دو مگر بے ہودہ بات منہ سے نہ نکالو ۔ فی زمانہ اس حکم پر عمل کرنے کی سخت حاجت ہے کیونکہ ہمارے ہاں دلیل سے پہلے گولی اور گالی کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔ ایت کے اخری حصے میں بتادیا کہ بدتہذیبی اور بدتمیزی شیطان کے ہتھیار ہیں اور ان کے ذریعے وہ تمہیں غصہ دلواتا اور بھڑکاتا ہے کہ ترکی بہ ترکی جواب دو جس سے لڑائی فساد کی نوبت اجائے۔ یہ شیطان کی انسان سے دشمنی ہے اور شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔