Surah Al Isra Ayat 59 (17:59)
The Night Journey · Juz 15 · Makki
وَ مَا مَنَعَنَاۤ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰیٰتِ اِلَّاۤ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَؕ-وَ اٰتَیْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَاؕ-وَ مَا نُرْسِلُ بِالْاٰیٰتِ اِلَّا تَخْوِیْفًا 59
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ہمیں نشانیاں بھیجنے سے صرف اس چیز نے باز رکھا کہ ان نشانیوں کو پہلے لوگوں نے جھٹلایا اور ہم نے ثمود کواونٹنی واضح نشانی دی تو انہوں نے اس پر ظلم کیا اور ہم نشانیاں ڈرانے کے لئے ہی بھیجتے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ہم ایسی نشانیاں بھیجنے سے یوں ہی باز رہے کہ انہیں اگلوں نے جھٹلایا اور ہم نے ثمود کو ناقہ دیا آنکھیں کھولنے کو تو انہوں نے اس پر ظلم کیا اور ہم ایسی نشانیاں نہیں بھیجتے مگر ڈرانے کو۔
Tafseer (Urdu)
{ان كذب بها الاولون:کہ ان نشانیوں کو پہلے لوگوں نے جھٹلایا ۔} اس ایت کا شان نزول یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ اہل مکہ نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے کہا تھا کہ صفا پہاڑ کو سونا کردیں ا ور پہاڑوں کو سرزمین مکہ سے ہٹا دیں ۔اس پر اللہ تعالی نے اپنے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو وحی کی کہ اگر آپ فرمائیں تو آپ کی امت کو مہلت دی جائے اور اگر آپ فرمائیں تو جو انہوں نے طلب کیا ہے وہ پورا کیا جائے لیکن اگر پھر بھی وہ ایمان نہ لائے تو ان کو ہلاک کرکے نیست و نابود کردیا جائے گا اس لئے کہ ہماری سنت یہی ہے کہ جب کوئی قوم نشانی طلب کرکے ایمان نہیں لاتی تو ہم اسے ہلاک کردیتے ہیں اور مہلت نہیں دیتے ۔ایسا ہی ہم نے پہلوں کے ساتھ کیا ہے۔اسی بیان میں یہ آیت نازل ہوئی۔( تفسیرکبیر الاسراء تحت الایۃ: ۵۹ ۷ / ۳۵۹ مدارک الاسراء تحت الایۃ: ۵۹ص۶۲۸ ملتقطا) اور فرمایا گیا کہ ہمیں کفار کی مطلوبہ نشانیاں بھیجنے سے صرف اس چیز نے باز رکھا کہ ان نشانیوں کو پہلے لوگوں نے جھٹلایا تو ہم نے انہیں ہلاک کردیا اور اس کی واضح مثال یہ ہے کہ ہم نے قوم ثمود کے مطالبے پرحضرت صالح علیہ الصلوۃ والسلام کونشانی کے طور پر اونٹنی دی تو قوم نے ماننے کی بجائے اس اونٹنی پر ہی ظلم کیا کہ اسے قتل کردیا اور یوں گویا اپنی جانوں پر بھی ظلم کیا اور نتیجے میں وہ ہلاک ہوگئے اور یاد رکھو کہ ہم نشانیاں جلد انے والے عذاب سے ڈرانے کے لئے ہی بھیجتے ہیں ۔