Surah Al Isra Ayat 61 (17:61)
The Night Journey · Juz 15 · Makki
وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَؕ-قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًا 61
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا ۔اس نے کہا:کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے بنایا؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ان سب نے سجدہ کیا سوا ابلیس کے بولا کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے بنایا۔
Tafseer (Urdu)
{و اذ قلنا:اور جب ہم نے کہا۔} یہاں سے ایک مرتبہ پھر حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام کا واقعہ بیان کیا جارہا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس سے پہلی ایات میں اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو ان کی قوم اور ان کے اہل زمانہ کی طرف سے پہنچنے والی مشقتوں کا ذکر فرمایا جبکہ اس ایت سے یہ بیان فرمایا کہ سابقہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے ساتھ ان کے اہل زمانہ کی ایسی ہی روش رہی ہے ان میں سے حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھ لیں کہ جو اللہ تعالی کے سب سے پہلے مقرب بندے ہیں انہیں ابلیس کی طرف سے کیسی شدید مشقت کا سامنا ہوا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی قوم نے ان سے صرف تکبر اور حسد کی وجہ سے جھگڑا کیا اور ان کے خلاف طرح طرح سے باطل شبہات پیش کئے تکبر کی بنا پر یہ لوگ ایمان سے محروم رہے اور تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو نبوت اور بلند درجہ ملنے پر ان سے حسد کیا۔ اس ایت میں اللہ تعالی نے بیان فرمایا کہ تکبر اور حسد نے ہی ابلیس کو ایمان سے نکال کر کفر میں داخل کر دیا مخلوق میں تکبر اور حسد بڑا پرانا مرض ہے۔( تفسیرکبیر الاسراء تحت الایۃ: ۶۱ ۷ / ۳۶۵) ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ عزوجل نے فرشتوں کو حکم دیا کہ حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا لیکن شیطان نے حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام سے حسد اور اپنی ذات کے تکبر کی وجہ سے یہ جواب دیا کہ کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے بنایا ہے حالانکہ میری پیدائش اگ سے ہے اور میں حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام سے افضل ہوں ۔