Surah Al Isra Ayat 68 (17:68)
The Night Journey · Juz 15 · Makki
اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ یُرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِیْلًا 68
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکیا تم اس بات سے بے خوف ہوگئے کہ اللہ تمہارے ساتھ خشکی کا کنارہ زمین میں دھنسا دے یا تم پر پتھر بھیجے پھر تم اپنے لئے کوئی حمایتی نہ پاؤ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکیا تم اس سے نڈر ہوئے کہ وہ خشکی ہی کا کوئی کنارہ تمہارے ساتھ دھنسادے یا تم پر پتھراؤ بھیجے پھر اپنا کوئی حمایتی نہ پاؤ۔
Tafseer (Urdu)
{افامنتم:کیا تم بے خوف ہوگئے۔} یعنی اے لوگو! کیا تم اس بات سے بے خوف ہوگئے کہ تمہارے دریا سے نجات پانے کے بعد اللہ تعالی تمہیں خشکی کے کنارے سمیت زمین میں دھنسا دے جیسا کہ قارون کو زمین میں دھنسا دیا تھا۔ ایت کا مقصد یہ ہے کہ خشکی وتری سب اللہ تعالی کے تحت قدرت ہیں جیسا وہ سمندر میں غرق کرنے اور بچانے دونوں پر قادر ہے ایسا ہی خشکی میں بھی زمین کے اندر دھنسا دینے اور محفوظ رکھنے دونوں پر قادر ہے۔ خشکی ہو یا تری ہر کہیں بندہ اس کی رحمت کا محتاج ہے۔ وہ تمہیں زمین میں دھنسانے پر بھی قادر ہے اور یہ بھی قدرت رکھتا ہے کہ تم پر پتھروں کی بارش برسا دے جیسے قوم لوط پر بھیجی تھی اورپھر تم اپنے لئے کوئی حمایتی نہ پاو جو تمہیں بچاسکے۔(روح البیان الاسراء تحت الایۃ: ۶۸ ۵ / ۱۸۳ خازن الاسراء تحت الایۃ: ۶۸ ۳ / ۱۸۲ ملتقطا) الغرض ہر حال میں اللہ عزوجل سے ڈرنا چاہیے۔