Surah Al Isra Ayat 81 (17:81)
The Night Journey · Juz 15 · Makki
وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُؕ-اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا 81
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور تم فرماؤ کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا بیشک باطل کو مٹنا ہی تھا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور فرماؤ کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا بیشک باطل کو مٹنا ہی تھا۔
Tafseer (Urdu)
{ و قل جآء الحق و زهق الباطل:اور تم فرماؤ کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا۔}یعنی اسلام آیا اورکفر مٹ گیا اور خلاصہ یہ کہ حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تشریف لائے تو نور ایا اور اندھیرا گیا اسلام ایا اور کفر گیا قران ایا اور شیطان گیا خیر ائی اور شر گیا ہدایت ائی اور گمراہی گئی مگر یہ سب کچھ اس دولہا کے دم قدم سے ہوا جس کے دم کی یہ ساری بہار ہے سب کچھ وہ ہی لائے ان پر درود اور سلام ہو۔ ہے انھیں کے دم قدم کی باغ عالم میں بہار وہ نہ تھے عالم نہ تھا گر وہ نہ ہوں عالم نہیں { ان الباطل كان زهوقا:بیشک باطل کو مٹنا ہی تھا۔} ارشاد فرمایا بیشک باطل کو مٹنا ہی تھا کیونکہ اگرچہ باطل کو کسی وقتمیں قوت وغلبہ حاصل ہو بھی جاتا ہے مگر اس کو پائیداری حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کا انجام بربادی و خواری ہی ہوتاہے۔( خازن الاسراء تحت الایۃ: ۸۱ ۳ / ۱۸۹) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فتح مکہ کے دن جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو مشرکین نے کعبہ مقدسہ کے گرد تین سو ساٹھ بت نصب کئے ہوئے تھے جن کے قدموں کو ابلیس نے مشرکوں کے لئے لوہے اور رانگ سے جوڑ کر مضبوط کر دیا تھا۔ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے دست مبارک میں ایک لکڑی تھی حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم یہ آیت پڑھ کر اس لکڑی سے جس بت کی طرف اشارہ فرماتے جاتے تھے وہ گرتا جاتا تھا۔( معجم الصغیر حرف الیاء من اسمہ: یوسف ص۱۳۶ الجزء الثانی)