Surah Al Isra Ayat 82 (17:82)
The Night Journey · Juz 15 · Makki
وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَۙ-وَ لَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا 82
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ہم قرآن میں وہ چیز اتارتے ہیں جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے اور اس سے ظالموں کو خسارہ ہی بڑھتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ہم قرآن میں اتارتے ہیں وہ چیز جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے اور اس سے ظالموں کو نقصان ہی بڑھتا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و ننزل من القران ما هو شفآء و رحمة للمؤمنین:اور ہم قرآن میں وہ چیز اتارتے ہیں جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے۔} قران شفا ہے کہ اس سے ظاہری و باطنی امراض گمراہی اور جہالت وغیرہ دور ہوتے ہیں اور ظاہری و باطنی صحت حاصل ہوتی ہے۔ باطل عقائد رذیل اخلاق اس کے ذریعے دفع ہوتے ہیں اور عقائد حقہ معارف الہیہ صفات حمیدہ اور اخلاق فاضلہ حاصل ہوتے ہیں کیونکہ یہ کتاب مجید ایسے علوم و دلائل پر مشتمل ہے جو وہم پر مبنی چیزوں کواور شیطانی ظلمتوں کو اپنے انوار سے نیست و نابود کر دیتے ہیں اور اس کا ایک ایک حرف برکات کا گنجینہ و خزانہ ہے جس سے جسمانی امراض اور آسیب دور ہوتے ہیں۔( خازن الاسراء تحت الایۃ: ۸۲ ۳ / ۱۸۹ روح البیان الاسراء تحت الایۃ: ۸۲ ۵ / ۱۹۴ خزائن العرفان بنی اسرا ئیل تحت الایۃ: ۸۲ ص۵۴۲ ملتقطا) قران مجید میں جسمانی امراض کی بھی شفا موجود ہے: یاد رہے کہ قران کریم کی حقیقی شفا تو روحانی امراض سے ہے لیکن جسمانی امراض کی بھی اس میں شفا موجود ہے اور سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اقوال و افعال سے ثابت ہےاس کی دو مثالیں درج ذیل ہیں : (1)… حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے بعض صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم عرب کے کسی قبیلے میں گئے اس قبیلے کے لوگوں نے ان کی مہمان نوازی نہ کی۔ اسی دورا ن قبیلے کے سردار کو ایک بچھو نے ڈنک مار دیا تو وہ لوگ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے پاس ا کر کہنے لگے کہ کیا تم میں سے کسی کے پاس دوا ہے یا تم میں کوئی دم کرنے والا ہے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے کہا ’’تم نے چونکہ ہماری مہمان نوازی نہیں کی اس لئے ہم اس وقت تک دم نہیں کریں گے جب تک تم ا س کی اجرت نہ دو گے۔ چنانچہ انہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے لئے بکریوں کا ایک ریوڑ مقرر کیا پھر (ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ نے ) سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا اور اپنے تھوک کی چھینٹیں اس پر ڈالیں تو وہ تندرست ہو گیا۔ پھر قبیلے کے لوگ بکریاں لے کر ائے تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے کہا ’’ہم اس وقت تک یہ بکریاں نہیں لیں گے جب تک(ان کے بارے میں )رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے پوچھ نہ لیں ۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے دریافت کیا تو اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مسکرائے اور ارشاد فرمایا ’’ تمہیں کس نے بتایا تھا کہ یہ دم ہے ان بکریوں کو لے لو اور اس میں سے میرا حصہ بھی نکال لو۔( بخاری کتاب الطب باب الرقی بفاتحۃ الکتاب ۴ / ۳۰ الحدیث: ۵۷۳۶) (2)…حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں ’’جس مرض میں رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی روح قبض کر لی گئی تھی اس مرض میں اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سورہ فلق اور سورہ والناس پڑھ کر اپنے اوپر دم فرماتے تھے اور جب طبیعت زیادہ ناساز ہوئی تو میں وہ سورتیں پڑھ کر اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر دم کیا کرتی اور خود اپ کےہاتھ کو پھیرتی کیونکہ وہ(میرے ہاتھ سے زیادہ) بابرکت ہے۔(بخاری کتاب الطب باب فی المراۃ ترقی الرجل ۴ / ۳۴ الحدیث: ۵۷۵۱)البتہ ایت کے اخر میں فرمایا کہ مومنوں کیلئے تو قران شفا ہے مگر اس قران کے ذریعے ظالموں یعنی کافروں کا خسارہ ہی بڑھتا ہے کہ کفرو ضد میں بڑھتے چلے جاتے ہیں ۔