Surah Al Isra Ayat 83 (17:83)
The Night Journey · Juz 15 · Makki
وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖۚ-وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ یَـٴُـوْسًا 83
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جب ہم انسان پر احسان کرتے ہیں تووہ منہ پھیرلیتا ہے اور اپنی طرف سے دور ہٹ جاتا ہے اور جب اسے برائی پہنچتی ہے تو مایوس ہوجاتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جب ہم آدمی پر احسان کرتے ہیں منہ پھیرلیتا ہے اور اپنی طرف دور ہٹ جاتا ہے اور جب اسے برائی پہنچے تو ناامید ہوجاتا ہے ۔
Tafseer (Urdu)
{و اذا انعمنا: اور جب ہم احسان کرتے ہیں ۔} ارشاد فرمایا کہ جب ہم کسی کافر انسان پر احسان کرتے ہیں کہ اس کو صحت اور (مال جان اولاد میں ) وسعت عطا فرماتے ہیں تو وہ ہمارے ذکر اور دعا سے ہماری بندگی کرنے اور ہمارا شکر ادا کرنے سے منہ پھیرلیتا ہے اور اپنی طرف سے دور ہٹ جاتا ہے یعنی تکبر کرتا ہے جبکہ جب اسے برائی پہنچتی ہے اور کوئی تکلیف و نقصان اور کوئی فقر و حادثہ درپیش ہوتا ہے تو تضرع و زاری سے دعائیں کرتا ہے اور ان دعاؤں کی قبولیت کا اثر ظاہر نہ ہونے پر مایوس ہوجاتا ہے۔( روح البیان الاسراء تحت الایۃ: ۸۳ ۵ / ۱۹۵ خازن الاسراء تحت الایۃ: ۸۳ ۳ / ۱۸۹ جلالین الاسراء تحت الایۃ: ۸۳ ص۲۳۷ ملخصا) کافر کی اس حالت کو بتا کر مسلمان کو سمجھایا گیا ہے کہ اسے ایسا نہیں بننا چاہیے بلکہ نعمت پر خدا کا شکر ادا کرے اور مصیبت میں صبر کرے اور دعا مانگے اور بالفرض اگر دعا کی قبولیت میں تاخیر ہو تو وہ مایوس نہ ہو بلکہ اللہ تعالی کی رحمت کا امیدوار رہے۔ کافر کی علامت: اس سے معلوم ہوا کہ ارام و راحت کے وقت اللہ عزوجل کو بھول جانا اور صرف مصیبت میں لمبی دعائیں مانگنا اور اگر قبولیت میں دیر ہو تو مایوس ہو جانا کافر یا غافل کی علامت ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ ان تینوں عیبوں سے پاک و صاف رہیں اپنی حالت و مزاج کو اس حدیث مبارک کہ مطابق بنائیں جو حضرت صہیب رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’مسلمان پر تعجب ہے کہ اس کی ہر حالت خیر ہے اور یہ بات مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہوتی کہ اگر اسے راحت پہنچے اور وہ شکر کرے تو اس کے لیے راحت خیر ہے اور اگر اسے تکلیف پہنچے اور وہ صبر کرے تو صبر اس کے لیے بہتر ہے۔( مسلم کتاب الزہد والرقائق باب المومن امرہ کلہ خیر ص۱۵۹۸ الحدیث: ۶۴(۲۹۹۹)) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’بندے کی دعا قبول ہوتی ہے جب تک کہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ مانگے اور جب تک کہ جلد بازی سے کام نہ لے ۔ عرض کی گئی: یا رسول اللہ !صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جلد بازی کیا ہے ارشاد فرمایا ’’جلد بازی یہ ہے کہ (دعا مانگنے والا) کہے میں نے دعا مانگی مگر مجھے امید نہیں کہ قبول ہو لہذا اس پر دل تنگ ہوجائے اور دعا مانگنا چھوڑ دے۔( مسلم کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار باب بیان انہ یستجاب للداعی ما لم یعجل۔۔۔ الخ ص۱۴۶۳ الحدیث: ۹۲(۲۷۳۵))