Surah Al Kahf Ayat 33 (18:33)
The Cave · Juz 15 · Makki
كِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ اٰتَتْ اُكُلَهَا وَ لَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَیْــٴًـاۙ-وَّ فَجَّرْنَا خِلٰلَهُمَا نَهَرًا 33
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariدونوں باغوں نے اپنے اپنے پھل دیدئیے اور اس میں کچھ کمی نہ کی اور دونوں کے بیچ میں ہم نے ایک نہر جاری کردی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanدونوں باغ اپنے پھل لائے اور اس میں کچھ کمی نہ دی اور دونوں کے بیچ میں ہم نے نہر بہائی۔
Tafseer (Urdu)
{كلتا الجنتین: دونوں باغ ۔} ارشاد فرمایا کہ دونوں باغوں نے اپنے اپنے پھل دیدئیے اور اس میں کچھ کمی نہ کی اور دونوں کے بیچ اللہ تعالی نے ایک نہر جاری کردی۔ یعنی کھجور اور انگور دونوں باغوں میں ہی خوب بہار ائی پھل خوب لگے جبکہ باغ کے بیچ میں موجود نہر نے باغ کی خوبصورتی اور زینت میں بھی اضافہ کردیا اور وہ باغ کے ترو تازہ رہنے کا باعث بھی ہوئی۔ {و كان له ثمر:اور اس کے پاس پھل تھے۔} مزید فرمایا کہ اس باغ والے کافر ادمی کے پاس باغ کے علاوہ اور بھی بہت سا مال و اسباب جیسے سونا چاندی وغیرہ ہر قسم کا مال تھا تو وہ اپنے مسلمان ساتھی سے اتراتے ہوئے اور اپنے مال پر فخر کرتے ہوئے کہنے لگا اور وہ اس سے فخر و غرور کی باتیں کرتا رہتا تھا۔ کہنے لگا کہ میں تجھ سے زیادہ مالدار ہوں اور افراد کے اعتبار سے زیادہ طاقتور ہوں یعنی میرا کنبہ قبیلہ بڑا ہے اور ملازم خدمت گار نوکر چاکر بھی میرے پاس بہت ہیں ۔( خازن الکھف تحت الایۃ: ۳۴ ۳ / ۲۱۱ ملخصا) اس سے معلوم ہوا کہ شیخی مارنا کفار کا کام ہے اور اللہ تعالی کی نعمت پر حمد الہی کرنا مومن کا کام ۔ اسی طرح مومن کو ذلیل جاننا کفار کا کام ہے۔