Surah Al Kahf Ayat 42 (18:42)
The Cave · Juz 15 · Makki
وَ اُحِیْطَ بِثَمَرِهٖ فَاَصْبَحَ یُقَلِّبُ كَفَّیْهِ عَلٰى مَاۤ اَنْفَقَ فِیْهَا وَ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُشْرِكْ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا 42
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اس کے پھل گھیر لیے گئے تو وہ ان اخراجات پر اپنے ہاتھ ملتا رہ گیا جو اس باغ میں خرچ کئے تھے اور وہ باغ اپنی چھتوں کے بل اوندھے منہ گرا ہواتھااوروہ مالک کہہ رہا ہے، اے کاش!میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہوتا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اس کے پھل گھیر لیے گئے تو اپنے ہاتھ ملتا رہ گیا اس لاگت پر جو اس باغ میں خرچ کی تھی اور وہ اپنی ٹَٹِّیُوں (چھپّروں ) پر گرا ہوا تھا اور کہہ رہا ہے اے کاش میں نے اپنے رب کا کسی کو شریک نہ کیا ہوتا۔
Tafseer (Urdu)
{و احیط بثمره:اور اس کے پھل گھیر لئے گئے۔} ارشاد فرمایا کہ اس کافر کے باغ پر عذاب اگیا اور باغ کے ساتھ ساتھ اس کے دیگر ہر طرح کے مال و اسباب پھل ہلاکت میں گھیر لیے گئے اور باغ بالکل ویران ہوگیا تو وہ حسرت کے ساتھ ان اخراجات پر اپنے ہاتھ ملتا رہ گیا جو اس نے باغ کی دیکھ بھال میں خرچ کئے تھے اور وہ باغ اپنی چھتوں کے بل اوندھے منہ گرگیا پھر اس حال کو پہنچ کر اسے مو من کی نصیحت یاد ائی اور وہ سمجھا کہ یہ اس کے کفرو سرکشی کا نتیجہ ہے اور اس وقت وہ کہنے لگا کہ اے کاش! میں نے اپنے رب عزوجلکے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہوتا۔( خازن الکھف تحت الایۃ: ۴۲ ۳ / ۲۱۲) {هنالك: یہاں پتہ چلتا ہے۔} ایت کے اخر میں اس واقعے کا سبق بیان فرمایا ہے کہ یہاں پتہ چلتا ہے اور ایسے حالات میں معلوم ہوتا ہیکہ تمام اختیار ات اللہ عزوجل کے دست قدرت میں ہیں ۔ وہی چاہے تو پھلوں سے لدے ہوئے باغات عطا فرما دے اور وہ چاہے تو ایک لمحے میں سب کچھ تہس نہس کردے۔