Surah Al Kahf Ayat 45 (18:45)
The Cave · Juz 15 · Makki
وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِیْمًا تَذْرُوْهُ الرِّیٰحُؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا 45
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ان کے سامنے بیان کرو کہ دنیا کی زندگی کی مثال ایسی ہے جیسے ایک پانی ہو جسے ہم نے آسمان سے اتارا تو اس کے سبب زمین کا سبزہ گھنا ہوکر نکلا پھروہ سوکھی گھاس بن گیا جسے ہوائیں اڑاتی پھرتی ہیں اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ان کے سامنے زندگانی دنیا کی کہاوت بیان کرو جیسے ایک پانی ہم نے آسمان سے اتارا تو اس کے سبب زمین کا سبزہ گھنا ہوکر نکلا کہ سوکھی گھاس ہوگیا جسے ہوائیں اڑائیں اور اللہ ہر چیز پر قابو والا ہے ۔
Tafseer (Urdu)
{و اضرب لهم مثل الحیوة الدنیا:اور ان کے سامنے دنیا کی زندگی کی مثال بیان کرو۔} اس رکوع میں دنیوی زندگی کے قابل فنا ہونے اور قیامت کے حساب کتاب کے بارے میں سمجھایا گیا ہے چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم لوگوں کے سامنے دنیا کی حقیقت بیان کرو اور اس کے سمجھانے کیلئے اس مثال کا سہارا لو کہ دنیوی زندگی کی مثال ایسی ہے جیسے زمین کی ہریالی اور سرسبزی و شادابی جو ہمارے نازل کئے ہوئے پانی کے سبب زمین سے نکلی ہو اور اس پانی کی وجہ سے زمین پر وہ شادابی اور تازگی پھیل جائے لیکن پھر کچھ ہی عرصے کے بعد وہ سبزہ فنا کے گھاٹ اتر جاتا ہے اور سوکھی ہوئی گھاس میں تبدیل ہوجاتا ہے جسے ہوائیں ادھر سے ادھر اڑائے پھرتی ہیں اور اس کی کوئی قدر و قیمت باقی نہیں رہتی ۔ فرمایا کہ دنیاوی زندگی کی مثال بھی ایسے ہی ہے کہ جس طرح سبزہ خوشنما ہونے کے بعد فنا ہوجاتا ہے اور اس کا نام و نشان باقی نہیں رہتا یہی حالت دنیا کی بے اعتبار حیات کی ہے اس پر مغرور و شیدا ہونا عقل مند کا کام نہیں اور یہ سب فنا و بقا اللہ کی قدرت سے ہے۔( روح البیان الکھف تحت الایۃ: ۴۵ ۵ / ۲۴۹-۲۵۰ مدارک الکھف تحت الایۃ: ۴۵ ص۶۵۳ ملتقطا) نوٹ:اس ایت میں بیان کی گئی مثال مزید تفصیل کے ساتھ سورہ یونس کی ایت نمبر 24 میں گزر چکی ہے۔