Surah Al Kahf Ayat 47 (18:47)
The Cave · Juz 15 · Makki
وَ یَوْمَ نُسَیِّرُ الْجِبَالَ وَ تَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةًۙ-وَّ حَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا 47
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور یاد کرو جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تم زمین کو صاف کھلی ہوئی دیکھو گے (جس پر پہاڑ وغیرہ کچھ بھی نہ ہوگا)اور ہم لوگوں کواٹھائیں گے تو ان میں سے کسی کو نہ چھوڑیں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تم زمین کو صاف کھلی ہوئی دیکھو گے اور ہم انہیں اٹھائیں گے تو ان میں سے کسی کو چھوڑ نہ دیں گے۔
Tafseer (Urdu)
{و یوم نسیر الجبال:اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے۔} دنیا کی فنائیت اور اسباب دنیا کی حقیقت بیان کرنے کے بعد اب قیامت کی ہولناکی کا بیان کیا جارہا ہے چنانچہ ارشاد فرمایا کہ یاد کرو جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے کہ وہ اپنی جگہ سے اکھڑ کر بادلوں کی طرح اڑتے پھریں گے اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور تم زمین کو صاف کھلی ہوئی دیکھو گے جس پرنہ کوئی پہاڑ ہوگا نہ درخت نہ عمارت بلکہ ایک چٹیل میدان ہوگا۔ اور ہم لوگوں کو قبروں سے اٹھائیں گے اور میدان قیامت میں حاضر کردیں گے۔( خازن الکھف تحت الایۃ: ۴۷ ۳ / ۲۱۳ ملخصا)