Surah Al Kahf Ayat 48 (18:48)
The Cave · Juz 15 · Makki
وَ عُرِضُوْا عَلٰى رَبِّكَ صَفًّاؕ-لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۭ٘-بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا 48
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور سب تمہارے رب کی بارگاہ میں صفیں باندھے پیش کئے جائیں گے ، بیشک تم ہمارے پاس ویسے ہی آئے جیسے ہم نے تمہیں پہلی بارپیدا کیا تھا ،بلکہ تمہارا گمان تھا کہ ہم ہر گز تمہارے لیے کوئی وعدے کا وقت نہ رکھیں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور سب تمہارے رب کے حضور پَرا باندھے پیش ہوں گے بیشک تم ہمارے پاس ویسے ہی آئے جیسا ہم نے تمہیں پہلی بار بنایا تھا بلکہ تمہارا گمان تھا کہ ہم ہر گز تمہارے لیے کوئی وعدہ کا وقت نہ رکھیں گے۔
Tafseer (Urdu)
{و عرضوا على ربك: اور سب تمہارے رب کی بارگاہ میں پیش ہوں گے۔} یہاں قیامت واقع ہونے کے بعد کی منظر کشی کی گئی ہے کہ سب اللہ عزوجل کی بارگاہ میں صفیں باندھے پیش کئے جائیں گے ہر ہر امت کی جماعت کی قطاریں علیحدہ علیحدہ ہوں گی اور اللہ تعالی ان سے فرمائے گا: بیشک تم ہمارے پاس ویسے ہی ننگے بدن ننگے پاوں مال و زر سے خالی ہوکر آئے جیسے ہم نے تمہیں پہلی بارپیدا کیا تھا او رپھر جو قیامت کے منکرین ہوں گے ان سے کہا جائے گاکہ تمہارا تو گمان یہ تھا کہ قیامت نہیں ائے گی اور تمہارے لئے حساب و کتاب کا کوئی وعدہ نہیں ہے اور انبیاء کرام علیہم الصلوۃ و السلام نے جو تمہیں اس وعدے سے خبردار کیا تھا اسے تو تم نے تسلیم ہی نہیں کیا تھا۔( مدارک الکھف تحت الایۃ: ۴۸ ص۶۵۴ ملخصا) غافل مسلمانوں کے لئے نصیحت: علامہ اسماعیل حقی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’اس ایت میں اللہ تعالی کی عزت و عظمت اوراس کے قہر و جلال کی صفت کے اظہار اور اس کے عدل کے اثار کی طرف اشارہ ہے تاکہ جو لوگ سو رہے ہیں وہ اپنی غفلت کی نیند سے بیدار ہو جائیں اور غفلت کے شکار لوگ قیامت کے دن نجات پانے کے اسباب اختیار کرکے اور اپنے پوشیدہ و اعلانیہ معاملات درست کر کے اللہ تعالی کی طرف سے ہونے والے خطاب کا جواب دینے کی تیاری کریں کیونکہ اسی کی طرف ہر ایک کو لوٹنا ہے اورجو پیشی اللہ تعالی کی بارگاہ میں ہوگی وہی سب سے بڑی پیشی ہے اور وہ کسی بادشاہ کے سامنے پیش ہونے کی طرح نہ ہوگی۔ حضرت عتبہ خواص رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :میرے پاس حضرت عتبہ غلام رحمۃاللہ تعالی علیہ ایک رات ٹھہرے تو وہ اتنا روئے کہ ان پر غشی طاری ہو گئی ۔ میں نے ان سے کہا:اپ کو کس چیز نے رلایا ہےانہوں نے جواب دیا:اللہ تعالی کی بارگاہ میں پیشی کی یاد نے محبت کرنے والوں کی رگیں کاٹ کر رکھ دی ہیں ۔ مروانی خلفاء میں سے ساتویں خلیفہ سلیمان بن عبد الملک نے حضرت ابو حازم رحمۃاللہ تعالی علیہ سے کہا ’’ہم اخرت کو کیوں ناپسند کرتے ہیں اپ رحمۃاللہ تعالی علیہ نے فرمایا ’’کیونکہ تم نے اپنی دنیا کو اباد کیا اور اپنی اخرت کو ویران کر دیااس لئے تم ابادی سے ویرانی کی طرف منتقل ہونے کو ناپسند کرتے ہو۔ سلیمان بن عبد الملک نے کہا: اے ابو حازم! رحمۃاللہ تعالی علیہ اپ نے سچ کہا اے کاش میں جان سکتا کہ کل اللہ تعالی کی بارگاہ میں ہمارے لئے کیا ہو گا! حضرت ابو حازم رحمۃاللہ تعالی علیہ نے فرمایا ’’اگر تم چاہو تو یہ بات جان سکتے ہو کیونکہ یہ اللہ تعالی کی کتاب میں موجود ہے۔ اس نے کہا: میں اسے (اللہ تعالی کی کتاب میں ) کس جگہ پا سکتا ہوں اپ رحمۃاللہ تعالی علیہ نے فرمایا ’’اللہ تعالی کے اس فرمان میں ’’ ان الابرار لفی نعیم(۱۳)و ان الفجار لفی جحیم‘‘(انفطار:۱۳۱۴) ترجمہ کنزالعرفان:بیشک نیک لوگ ضرور چین میں (جانے والے) ہیں ۔ اور بیشک بدکار ضرور دوزخ میں (جانے والے) ہیں ۔ سلیمان بن عبد الملک نے کہا :اللہ تعالی کی بارگاہ میں پیشی کس طرح ہو گی اپ رحمۃاللہ تعالی علیہ نے فرمایا ’’نیک لوگ تو ایسے پیش ہوں گے جیسے وہ پیش ہی نہیں ہوئے اور وہ اپنے اہل و عیال کی طرف شاداں و فرحاں واپس ا جائیں گے اور گناہگار اس طرح پیش ہوں گے جیسے بھاگے ہوئے غلام کو اس کے اقا کے سامنے باندھ کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ سن کر سلیمان بن عبد الملک بہت رویا۔( روح البیان الکھف تحت الایۃ: ۴۸ ۵ / ۲۵۳) وہ ہے عیش و عشرت کا کوئی محل بھی جہاں تاک میں ہر گھڑی ہو اجل بھی بس اب اپنے اس جہل سے تو نکل بھی یہ جینے کا انداز اپنا بدل بھی جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے