Surah Al Kahf Ayat 60 (18:60)
The Cave · Juz 15 · Makki
وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِفَتٰىهُ لَاۤ اَبْرَحُ حَتّٰۤى اَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِ اَوْ اَمْضِیَ حُقُبًا 60
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنے خادم سے فرمایا: میں مسلسل سفر میں رہوں گا جب تک دوسمندروں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں یا مدتوں چلتا رہوں گا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا میں باز نہ رہوں گا جب تک وہاں نہ پہنچوں جہاں دو سمندر ملے ہیں یا قرنوں چلا جاؤں ۔
Tafseer (Urdu)
{و اذ قال موسى:اور یاد کرو جب موسی نے فرمایا۔} اس رکوع سے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کا حضرت خضر علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس علم سیکھنے کے لئے جانے والے قصے کو بیان کیا گیا ہے۔ ایت میں جن کا ذکر ہے وہ مشہور پیغمبر اور جلیل القدر نبی حضرت موسی بن عمران علیہ الصلوۃ والسلام ہیں انہیں اللہ تعالی نے تورات اور کثیر معجزات عطا فرمائے تھے۔ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے خادم کا نام حضرت یوشع بن نون ہے یہ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت وصحبت میں رہتے اور آپ علیہ الصلوۃ والسلام سے علم حاصل کرتے تھے ۔ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد حضرت یوشع ہی اپ کے ولی عہد بنے۔ ایت میں مذکور واقعے کا پس منظر یہ ہے کہ ایک بار حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے بنی اسرائیل کی جماعت میں بہت شاندار وعظ فرمایا اس کے بعد کسی نے پوچھا کہ اپ سے بڑا عالم بھی کوئی ہے۔ اپ علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: نہیں ۔ اللہ تعالی نے اپ کی طرف وحی فرمائی کہ ’’ اے موسی !علیہ الصلوۃ والسلام تم سے بڑے عالم حضرت خضرعلیہ الصلوۃ والسلام ہیں ۔ اپ علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالی سے ان کا پتہ پوچھا تو ارشاد فرمایا : مجمع بحرین میں رہتے ہیں وہاں کی نشانی یہ بتائی کہ جہاں بھنی مچھلی زندہ ہو کر دریا میں چلی جائے اور پانی میں سرنگ بن جائے وہاں حضرت خضر علیہ الصلوۃ والسلام ہوں گے ۔ چنانچہ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے خادم سے فرمایا: میں مسلسل سفر میں رہوں گا جب تک کہ مشرق کی جانب دوسمندروں یعنی بحر فارس اور بحر روم کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاوں یا اگر وہ جگہ دور ہو تو مدتوں تک چلتا رہوں گا ۔پھر یہ حضرات روٹی اور نمکین بھنی مچھلی زنبیل میں توشہ کے طور پر لے کر روانہ ہوئے۔( تفسیرکبیر الکھف تحت الایۃ: ۶۰ ۷ / ۴۷۷ روح البیان الکھف تحت الایۃ: ۶۰ ۵ / ۲۶۲-۲۶۳ مدارک الکھف تحت الایۃ: ۶۰ ص۶۵۷ ملتقطا) حضرت موسی اور حضرت خضر علیہما الصلوۃ والسلام کے واقعے سے حاصل ہونے والی معلومات: حضرت موسی اور حضرت خضرعلیہما الصلوۃ والسلام کے واقعے سے چند باتیں معلوم ہوئیں ۔ (1)…علم کے لئے سفر کرنا اللہ تعالی کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی سنت ہے۔ (2)… استاد کے پاس جانا اور اسے گھر نہ بلانا سنت ہے۔ (3)…علم کی زیادتی چاہنا بہتر ہے۔ (4)…سفر میں توشہ ساتھ رکھنا اچھا ہے۔ (5)… سفر میں اچھا ساتھی ہونا بہتر ہے۔ (6)… استاد کا ادب کرنا ضروری ہے۔ (7)… استاد کی بات پر اعتراض نہ کرنا چاہیے۔ (8)… جہاں تک ہوسکے پیر کامل کے فعل کی تاویل کرنی چاہیے اور اس سے بد ظن نہیں ہونا چاہیے جبکہ وہ واقعی پیر کامل اور شریعت کا سچا عامل ہو۔ (9)… علم صرف کتا ب سے نہیں اتا بلکہ استاد کی صحبت سے بھی اتا ہے۔ (10)… بزرگوں کی صحبت کیمیا کا اثر رکھتی ہے۔ (11)… اپنے اپ کو استفادہ کرنے سے مستغنی نہیں سمجھنا چاہیے۔