Surah Al Kahf Ayat 63 (18:63)
The Cave · Juz 15 · Makki
قَالَ اَرَءَیْتَ اِذْ اَوَیْنَاۤ اِلَى الصَّخْرَةِ فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ٘-وَ مَاۤ اَنْسٰىنِیْهُ اِلَّا الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗۚ-وَ اتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ ﳓ عَجَبًا 63
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariخادم نے عرض کی: سنئے ! جب ہم نے اس چٹان کے پاس (آرام کیلئے) ٹھکانہ بنایا تھا تو بیشک میں مچھلی (کے متعلق بتانا) بھول گیا تھا اور مجھے شیطان ہی نے اس کا ذکر کرنا بھلادیا اور (ہوا یہ ہے کہ) مچھلی نے سمندر میں اپنا راستہ بڑا عجیب بنایا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبولا بھلا دیکھئے تو جب ہم نے اس چٹان کے پاس جگہ لی تھی تو بیشک میں مچھلی کو بھول گیا اور مجھے شیطان ہی نے بھلا دیا کہ میں اس کا مذکور کروں اور اس نے تو سمندر میں اپنی راہ لی اچنبا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{قال:موسی نے فرمایا۔} حضرت یوشع بن نون علیہ الصلوۃ والسلام کی بات سن کر حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ’’مچھلی کا جانا ہی تو ہمارے مقصد حاصل ہونے کی علامت ہے ۔ جن کی طلب میں ہم چلے ہیں ان کی ملاقات وہیں ہوگی۔ چنانچہ پھر وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانات کی پیروی کرتے ہوئے واپس لوٹے۔( مدارک الکھف تحت الایۃ: ۶۴ ص۶۵۸ ملخصا) {فوجدا:توانہوں نے پایا۔} یعنی جب وہ دونوں بزرگ واپس اسی جگہ پہنچے تو وہاں انہوں نے اللہ تعالی کے بندوں میں سے ایک بندہ پایا جو چادر اوڑھے آرام فرما رہا تھا۔ یہ حضرت خضر علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام تھے۔ لفظ خضر لغت میں تین طرح سے آیا ہے۔ (1) ’’خا ‘‘کے نیچے زیر اور ضاد کے اوپر جزم کے ساتھ یعنی خضر۔ (2) ’’خا ‘‘ کے اوپر زبر اور ضاد کے اوپر جزم کے ساتھ یعنی خضر۔ (3) ’’خا‘‘ کے اوپر زبر اور ضاد کے نیچے زیر کے ساتھ یعنی خضر۔ یہ اپ علیہ الصلوۃ والسلام کا لقب ہے اور اس لقب کی وجہ یہ ہے کہ اپ علیہ الصلوۃ والسلام جہاں بیٹھتے یا نماز پڑھتے ہیں وہاں اگر گھاس خشک ہو تو سرسبز ہوجاتی ہے۔ آپ علیہ الصلوۃ والسلام کا نام بلیا بن ملکان اور کنیت ابوالعباس ہے ۔ ایک قول یہ ہے کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام بنی اسرائیل میں سے ہیں ۔ ایک قول یہ ہے کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام شہزادے تھے اور آپ نے دنیا ترک کرکے زہد اختیار فرما لیا تھا۔( روح البیان الکھف تحت الایۃ: ۶۵ ۵ / ۲۶۷ خازن الکھف تحت الایۃ: ۶۵ ۳ / ۲۱۸ ملتقطا) حضرت خضر علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کی شان: اس ایت میں اللہ تعالی نے حضرت خضر علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کی شان میں مزید دو باتیں ارشاد فرمائیں ۔ ایک یہ کہ اسے ہم نے اپنے پاس سے خاص رحمت دی تھی۔ اس رحمت سے نبوت مراد ہے یا ولایت یا علم یا لمبی زندگی۔ آپ علیہ الصلوۃ والسلام ولی تو بالیقین ہیں جبکہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی نبوت میں اختلاف ہے۔ا علی حضرت رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’سیدنا خضرعلیہ السلام جمہور کے نزدیک نبی ہیں اور ان کوخاص طور سے علم غیب عطا ہوا ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا ’’و علمنه من لدنا علما‘‘(فتاوی رضویہ ۲۶ / ۴۰۱) ایک اور مقام پر فرماتے ہیں ’’معتمد ومختار یہ ہے کہ وہ (یعنی حضرت خضرعلی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام) نبی ہیں اور دنیا میں زندہ ہیں ۔( فتاوی رضویہ ۲۸ / ۶۱۰) دوسری یہ کہ اسے اپنا علم لدنی عطا فرمایا۔ علم لدنی سے مراد غیب کا علم ہے۔( بیضاوی الکھف تحت الایۃ: ۶۵ ۳ / ۵۱۰ جلالین الکھف تحت الایۃ: ۶۵ ص۲۴۹ مدارک الکھف تحت الایۃ: ۶۵ ص۶۵۸) بعض مفسرین نے فرمایا علم لدنی وہ ہے جو بندے کوالہام کے ذریعے حاصل ہو۔( مدارک الکھف تحت الایۃ: ۶۵ ص۶۵۸) حضرت خضر علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کے نام کی برکت۔ بزرگان دین فرماتے ہیں ’’جو حضرت خضر علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کا نام ان کی ولدیت اور کنیت کے ساتھ (یعنی ابوالعباس بلیا بن ملکان ) یاد رکھے گا ان شاء اللہ عزوجل اس کا خاتمہ ایمان پر ہوگا۔( صاوی الکھف تحت الایۃ: ۶۵ ۴ / ۱۲۰۷)