Surah Al Kahf Ayat 71 (18:71)
The Cave · Juz 15 · Makki
فَانْطَلَقَاٙ-حَتّٰۤى اِذَا رَكِبَا فِی السَّفِیْنَةِ خَرَقَهَاؕ-قَالَ اَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ اَهْلَهَاۚ-لَقَدْ جِئْتَ شَیْــٴًـا اِمْرًا 71
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariپھروہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوئے تواس نے کشتی کو چیر ڈالا۔ موسیٰ نے کہا: کیا تم نے اسے اس لیے چیردیا تاکہ کشتی والوں کو غرق کردو، بیشک یہ تم نے بہت برا کام کیا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاب دونوں چلے یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوئے اس بندہ نے اسے چیر ڈالا موسیٰ نے کہا کیا تم نے اسے اس لیے چیرا کہ اس کے سواروں کو ڈبا دو بیشک یہ تم نے بری بات کی۔
Tafseer (Urdu)
{فانطلقا: پھروہ دونوں چلے۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت خضر علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کشتی کی تلاش میں ساحل کے کنارے چلنے لگے ۔ جب ان کے پاس سے ایک کشتی گزری تو کشتی والوں نے حضرت خضر علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کو پہچان کر بغیر معاوضہ کے سوار کرلیا جب کشتی سمندر کے بیچ میں پہنچی تو حضرت خضر علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام نے کلہاڑی کے ذریعے اس کا ایک تختہ یا دو تختے اکھاڑ ڈالے۔ یہ دیکھ کر حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام خاموش نہ رہ سکے اور فرمایا: کیا تم نے اس کشتی کو اس لیے چیر دیا تاکہ کشتی والوں کو غرق کردو بیشک یہ تم نے بہت برا کام کیا۔ حضرت خضر علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام نے ان سے فرمایا: کیا میں نہ کہتا تھا کہ آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے۔(روح البیان الکھف تحت الایۃ: ۷۱-۷۲ ۵ / ۲۷۷ ملخصا) {قال لا تؤاخذنی:کہا :میرا مواخذہ نہ کرو۔} یعنی حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے عذر خواہی فرمائی کہ میں اپ سے کیا وعدہ بھول گیا تھا لہذا اس پر میرا مواخذہ نہ کریں ۔