Surah Al Kahf Ayat 76 (18:76)
The Cave · Juz 16 · Makki
قَالَ اِنْ سَاَلْتُكَ عَنْ شَیْءٍۭ بَعْدَهَا فَلَا تُصٰحِبْنِیْۚ-قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّیْ عُذْرًا 76
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariموسیٰ نے کہا: اگر اس مرتبہ کے بعد میں آپ سے کسی شے کے بارے میں سوال کروں تو پھر مجھے ساتھی نہ رکھنا، بیشک میری طرف سے تمہارا عذر پورا ہوچکاہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکہا اس کے بعد میں تم سے کچھ پوچھوں تو پھر میرے ساتھ نہ رہنا بیشک میری طرف سے تمہارا عذر پورا ہوچکا۔
Tafseer (Urdu)
{قال:موسی نے کہا۔} حضرت خضر علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کی بات کے جواب میں حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے کہا: اگر اس مرتبہ کے بعد میں اپ سے کسی شے کے بارے میں سوال کروں تو پھر مجھے اپنا ساتھی نہ رکھنا اگرچہ میں اپ کے ساتھ رہنے کا تقاضا کروں اور جب میں تیسری بار اپ کی مخالفت کروں تو بیشک اس صورت میں میری طرف سے اپ کے ساتھ نہ رہنے میں اپ کا عذر پورا ہوچکا۔( روح البیان الکہف تحت الایۃ: ۷۶ ۵ / ۲۸۰) تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تمنا: صحیح مسلم میں ہے کہ جب حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت خضر علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کے واقعے کا یہ حصہ بیان کیا تو اس موقع پر اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ہم پر اور حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام پر اللہ تعالی کی رحمت ہو اگر وہ جلدی نہ کرتے تو بہت حیران کن چیزیں دیکھتے لیکن انہیں حضرت خضر علیہ الصلوۃ والسلام سے حیاء ائی اور کہا: اگر اس مرتبہ کے بعد میں اپ سے کسی شے کے بارے میں سوال کروں تو پھر مجھے ساتھی نہ بنانا بیشک میری طرف سے تمہارا عذر پورا ہوچکا ہے۔ کاش! حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام صبر کرتے تو بہت عجیب و غریب چیزیں دیکھتے۔( مسلم کتاب الفضائل باب من فضائل الخضر علیہ السلام ص۱۲۹۶ الحدیث: ۱۷۲(۲۳۸۰)) اور ایک روایت میں یوں ہے کہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ اللہ تعالی حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام پر رحم فرمائے میری ارزوتھی کہ کاش! حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام صبر کرتے حتی کہ اللہ تعالی ہمیں حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت خضر علیہ الصلوۃ والسلام کے مزید واقعات سناتا۔( مسلم کتاب الفضائل باب من فضائل الخضر علیہ السلام ص۱۲۹۴ الحدیث: ۱۷۰(۲۳۸۰))