Surah Maryam Ayat 12 (19:12)
Mary · Juz 16 · Makki
یٰیَحْیٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍؕ-وَ اٰتَیْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِیًّا 12
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے یحیٰ ! کتاب کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھو اور ہم نے اسے بچپن ہی میں حکمت عطافرما دی تھی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے یحییٰ کتاب مضبوط تھام اور ہم نے اسے بچپن ہی میں نبوت دی۔
Tafseer (Urdu)
{ییحیى خذ الكتب بقوة:اے یحی !کتاب کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھو ۔} حضرت یحی علیہ الصلوۃ والسلام کی ولادت کے بعد جب اپ علیہ الصلوۃ والسلام کی عمر دو سال ہوئی تو اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ’’ اے یحی ! کتاب توریت کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھو اور اس پر عمل کی بھرپور کوشش کرو اور ہم نے اسے بچپن ہی میں حکمت عطا فرما دی تھی جب کہ آپ کی عمر شریف تین سال کی تھی اس وقت میں اللہ تبارک وتعالی نے آپ کو کا مل عقل عطا فرمائی اور آپ کی طرف وحی کی ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کا یہی قول ہے اور اتنی سی عمر میں فہم و فراست اور عقل و دانش کا کمال خوارق عادات (یعنی انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے معجزات) میں سے ہے اور جب اللہ تعالی کے کرم سے یہ حاصل ہو تو اس حال میں نبوت ملنا کچھ بھی بعید نہیں لہذا اس آیت میں حکم سے نبوت مراد ہے اور یہی قول صحیح ہے ۔ بعض مفسرین نے اس سے حکمت یعنی توریت کا فہم اور دین میں سمجھ بھی مراد لی ہے۔( جلالین مریم تحت الایۃ: ۱۲ ص۲۵۴ خازن مریم تحت الایۃ: ۱۲ ۳ / ۲۳۰ مدارک مریم تحت الایۃ: ۱۲ ص۶۶۹ تفسیر کبیر مریم تحت الایۃ: ۱۲ ۷ / ۵۱۶-۵۱۷ ملتقطا) ہماری پیدائش کا اصلی مقصد: حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ اللہ تعالی میرے بھائی حضرت یحی علیہ الصلوۃ والسلام پر رحم فرمائے جب انہیں بچپن کی حالت میں بچوں نے کھیلنے کے لئے بلایا تو اپ علیہ الصلوۃ والسلام نے (ان بچوں سے) کہا: کیا ہم کھیل کے لئے پیدا کئے گئے ہیں (ایسا نہیں ہے بلکہ ہمیں عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور یہی ہم سے مطلوب ہے۔ جب نابالغ بچہ اس طرح کہہ رہا ہے تو )اس بندے کا قول کیسا ہونا چاہئے جو بالغ ہو چکا ہے۔( ابن عساکر حرف الیاء ذکر من اسمہ یحی یحی بن زکریا بن نشوی۔۔۔ الخ ۶۴ / ۱۸۳) اس سے معلوم ہوا کہ ہمیں پیدا کئے جانے کا اصلی مقصد یہ نہیں کہ ہم کھیل کود اور دنیوی عیش و لذت میں اپنی زندگی بسر کریں بلکہ ہماری پیدائش کا اصلی مقصد یہ ہے کہ ہم اللہ تعالی کی عبادت کریں ۔اسی چیز کو قران مجید میں اس طرح بیا ن کیا گیا ہے کہ : ’’افحسبتم انما خلقنكم عبثا و انكم الینا لا ترجعون‘‘(مومنون:۱۱۵) ترجمہ کنزالعرفان: تو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بیکار بنایااور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاو گے اور ارشاد فرمایا کہ: ’’و ما خلقت الجن و الانس الا لیعبدون‘‘ (ذاریات:۵۶) ترجمہ کنزالعرفان: اور میں نے جن اور آدمی اسی لئے بنائے کہ میری عبادت کریں ۔ اللہ تعالی ہمیں فضول اور بیکار کاموں اور اخروی تیاری سے غافل کر دینے والے امور سے بچنے اور ہمیں اپنی اطاعت و عبادت میں زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائےامین۔