Surah Maryam Ayat 27 (19:27)
Mary · Juz 16 · Makki
فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗؕ-قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْــٴًـا فَرِیًّا 27
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariپھر عیسیٰ کو اُٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئیں تو لوگ کہنے لگے : اے مریم! بیشک تو بہت ہی عجیب و غریب چیز لائی ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو اسے گود میں لیے اپنی قوم کے پاس آئی بولے اے مریم بیشک تو نے بہت بڑی بات کی۔
Tafseer (Urdu)
{فاتت به قومها تحمله:پھر عیسی کو اٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئیں ۔} اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی ولادت کے بعد حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا انہیں اٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئیں جب لوگوں نے حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا کو دیکھا کہ ان کی گود میں بچہ ہے تو وہ روئے اور غمگین ہوئے کیونکہ وہ صالحین کے گھرانے کے لوگ تھے اور کہنے لگے : اے مریم! بیشک تم بہت ہی عجیب و غریب چیز لائی ہو۔ اے ہارون کی بہن! نہ تو تیرا باپ عمران کوئی برا آدمی تھا اور نہ ہی تیری ماں حنہ بدکار عورت تھی تو پھر تیرے ہاں یہ بچہ کہاں سے ہو گیا۔(خازن مریم تحت الایۃ: ۲۷-۲۸ ۳ / ۲۳۳) {یاخت هرون:اے ہارون کی بہن!} حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا کوان کی قوم کے لوگوں نے ہارون کی بہن کہا اس ہارون سے کون مراد ہے اس کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ ہارون حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہاکے بھائی کا ہینام تھا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک نہایت نیک وصالح شخص کانام ہارون تھا اور اس کے تقوی اور پرہیز گاری سے تشبیہ دینے کے لیے اپ کوہارون کی بہن کہا۔ تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے بھائی ہی ہوں اگرچہ ان کازمانہ بہت بعید تھا اور ایک ہزار سال کا عرصہ ہوچکا تھا مگر اپ ان کی نسل سے تھیں اسی لئے ہارون کی بہن کہہ دیا۔(خازن مریم تحت الایۃ: ۲۸ ۳ / ۲۳۳ مدارک مریم تحت الایۃ: ۲۸ ص۶۷۲ ملتقطا)