Surah Maryam Ayat 26 (19:26)
Mary · Juz 16 · Makki
فَكُلِیْ وَ اشْرَبِیْ وَ قَرِّیْ عَیْنًاۚ-فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًاۙ-فَقُوْلِیْۤ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّا 26
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو کھا اور پی اور آنکھ ٹھنڈی رکھ پھر اگر تو کسی آدمی کو دیکھے تو (اشارے سے) کہہ دینا کہ میں نے آج رحمٰن کیلئے روزہ کی نذر مانی ہے تو آج ہرگز میں کسی آدمی سے بات نہیں کروں گی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو کھا اور پی اور آنکھ ٹھنڈی رکھ پھر اگر تو کسی آدمی کو دیکھے تو کہہ دینا میں نے آج رحمٰن کا روزہ مانا ہے تو آج ہرگز کسی آدمی سے بات نہ کرو ں گی ۔
Tafseer (Urdu)
{فكلی و اشربی و قری عینا:تو کھا اور پی اور آنکھ ٹھنڈی رکھ۔} اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہاسے فرمایا گیا کہ اپ کھجوریں کھائیں اور پانی پئیں اور اپنے فرزند حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام سے اپنی آنکھ ٹھنڈی رکھیں پھر اگر اپ کسی آدمی کو دیکھیں کہ وہ اپ سے بچے کے بارے میں دریافت کرتا ہے تو اشارے سے اسے کہہ دیں کہ میں نے آج رحمن کیلئے روزہ کی نذر مانی ہے تو آج ہرگز میں کسی آدمی سے بات نہیں کروں گی۔ حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہاکو خاموش رہنے کی نذر ماننے کا اس لئے حکم دیا گیا تاکہ کلام حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام فرمائیں اور ان کا کلام مضبوط حجت ہو جس سے تہمت زائل ہو جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بیوقوف کے جواب میں خاموش رہنا اور منہ پھیر لینا چاہئے کہ جاہلوں کے جواب میں خاموشی ہی بہتر ہے اور یہ بھی معلوم ہو اکہ کلام کو افضل شخص کے حوالے کر دینا اولی ہے۔(خازن مریم تحت الایۃ: ۲۶ ۳ / ۲۳۳ مدارک مریم تحت الایۃ: ۲۶ ص۶۷۱-۶۷۲ ملتقطا) چپ رہنے کا روزہ منسوخ ہو چکا ہے: یاد رہے کہ پہلے زمانہ میں بولنے اور کلام کرنے کا بھی روزہ ہوتا تھا جیسا کہ ہماری شریعت میں کھانے اور پینے کا روزہ ہوتا ہے البتہ ہماری شریعت میں چپ رہنے کا روزہ منسوخ ہوگیا ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے صوم وصال (یعنی سحری اور افطار کے بغیر مسلسل روزہ رکھنے) اور چپ کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔(مسند امام اعظم باب العین روایتہ عن عدی بن ثابت ص۱۹۲)