Surah Maryam Ayat 3 (19:3)
Mary · Juz 16 · Makki
اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِیًّا 3
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariجب اس نے اپنے رب کو آہستہ سے پکارا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجب اس نے اپنے رب کو آہستہ پکارا ۔
Tafseer (Urdu)
{اذ نادى ربه ندآء خفیا:جب اس نے اپنے رب کواہستہ سے پکارا۔} یعنی حضرت زکریا علیہ الصلوۃ والسلام نے اہستہ اواز میں اللہ تعالی سے دعا مانگی مفسرین نے اپ علیہ الصلوۃ والسلام کے اہستہ اواز میں دعا مانگنے کی چند وجوہات ذکر کی ہیں: (1)…اہستہ دعا مانگنے میں اخلاص زیادہ ہوتا ہے اور دعا مانگنے والا ریاکاری سے محفوظ رہتا ہے اس لئے اپ علیہ الصلوۃ والسلام نے اہستہ دعا فرمائی ۔ (2)…لوگ اولاد کی دعا مانگنے پر ملامت نہ کریں کیونکہ اس وقت حضرت زکریا علیہ الصلوۃ والسلام کی عمرشریف 75 یا 80 سال تھی ۔ (3)…حضرت زکریا علیہ الصلوۃ والسلام کی اوازکمزوری کے باعث اہستہ ہوگئی تھی۔(مدارک مریم تحت الایۃ: ۳ ص۶۶۷ خازن مریم تحت الایۃ: ۳ ۳ / ۲۲۹ ملتقطا) اہستہ اواز میں دعامانگنے کی فضیلت اوردعا مانگنے کا ایک ادب: اس ایت میں حضرت زکریاعلیہ الصلوۃ والسلام کے اہستہ دعا مانگنے کا ذکر ہے اہستہ دعا مانگنے کی فضیلت کے بارے میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’اہستہ اواز میں دعا کرنا 70 بلند اواز کے ساتھ دعاوں کے برابر ہے۔( مسند الفردوس باب الدال ۲ / ۲۱۴ الحدیث: ۳۰۴۶) نیزاس سے معلوم ہوا کہ اہستہ اواز میں دعا مانگنا دعا کے اداب میں سے ہے۔ اسی ادب کی تعلیم دیتے ہوئے ایک اور مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’ ادعوا ربكم تضرعا و خفیة‘‘(اعراف:۵۵) ترجمہ کنزالعرفان: اپنے رب سے گڑگڑاتے ہوئے اور آہستہ اواز سے دعا کرو ۔ اور حضرت علامہ مولانا نقی علی خاں رحمۃ اللہ تعالی علیہ دعا کے اداب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’دعا نرم و پست اواز سے ہو کہ اللہ تعالی سمیع و قریب ہے جس طرح چلانے سے سنتا ہے اسی طرح اہستہ (اواز بھی سنتا ہے) اعلی حضرت امام احمد رضاخان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں’’بلکہ وہ اسے بھی سنتا ہے جو ہنوز (یعنی ابھی) زبان تک اصلا نہ ایا یعنی دلوں کا ارادہ نیت خطرہ کہ جیسے اس کا علم تمام موجودات و معدومات کو محیط (یعنی گھیرے ہوئے) ہے یونہی اس کے سمع و بصر جمیع موجودات کو عام و شامل ہیں اپنی ذات و صفات اور دلوں کے ارادات و خطرات اور تمام اعیان و اعراض کائنات ہر شئے کو دیکھتا بھی ہے اور سنتا بھی نہ اس کا دیکھنا رنگ و ضوء (یعنی روشنی) سے خاص نہ اس کا سننا اواز کے ساتھ مخصوص۔(فضائل دعا فصل دوم اداب دعا واسباب اجابت میں ص ۷۶-۷۷) مشورہ :دعا کے فضائل و اداب اور اس سے متعلق دیگر معلومات حاصل کرنے کے لئے اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے والد ماجد حضرت علامہ نقی علی خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی شاندار کتاب’’فضائل دعا‘‘[1]اور راقم کی کتاب’’ فیضان دعا‘‘ کا مطالعہ فرمائیں ۔ نوٹ: حضرت زکریا علیہ الصلوۃ والسلام کے دعا مانگنے سے متعلق انتہائی ایمان افروز کلام سورہ ال عمران کی ایت نمبر 37 اور 38 کے تحت مذکور تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں ۔ [1] ۔۔۔ یہ تسہیل و تخریج کے ساتھ مکتبۃ المدینہ نے بھی شائع کی ہےوہاں سے خرید کر مطالعہ کر سکتے ہیں ۔