Surah Maryam Ayat 46 (19:46)
Mary · Juz 16 · Makki
قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِهَتِیْ یٰۤاِبْرٰهِیْمُۚ-لَىٕنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ وَ اهْجُرْنِیْ مَلِیًّا 46
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبولا: کیا تو میرے معبودوں سے منہ پھیرتا ہے؟ اے ابراہیم ! بیشک اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے پتھر ماروں گا اور تو عرصہ دراز کیلئے مجھے چھوڑ دے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبولا کیا تو میرے خداؤں سے منہ پھیرتا ہے اے ابراہیم بیشک اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے پتھراؤ کروں گا اور مجھ سے زمانہ دراز تک بے علاقہ ہوجا۔
Tafseer (Urdu)
{ قال:بولا۔} حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی لطف امیز نصیحت اور دل پذیر ہدایت سے ازر نے نفع نہ اٹھایا اور وہ ا س کے جواب میں بولا: کیا تو میرے معبودوں سے منہ پھیرتا ہے اے ابراہیم ! بیشک اگر تو بتوں کی مخالفت کرنے انہیں برا کہنے اور ان کے عیب بیان کرنے سے باز نہ آیا تو میں تجھے پتھر ماروں گا اور تو عرصہ دراز کیلئے مجھ سے کلام کرنا چھوڑ دے تاکہ میرے ہاتھ اور زبان سے امن میں رہے۔( خازن مریم تحت الایۃ: ۴۶ ۳ / ۲۳۷) نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے والوں کیلئے درس: امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا نصیحت کرنے کا انداز اور ان کے جواب میں ازر کا طرز عمل اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے سامنے اس لئے بیان فرمایا تاکہ مشرکین کی طرف سے پہنچنے والی اذیتوں پر اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا دل ہلکا ہو اور اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جان جائیں کہ جاہلوں کا یہ مذموم طرز عمل (کوئی اج کا نہیں بلکہ) عرصہ دراز سے چلا ارہا ہے۔( تفسیرکبیر مریم تحت الایۃ: ۴۶ ۷ / ۴۴۵) اس میں ان مسلمانوں کے لئے بھی درس ہے جو دین اسلام اور اس کے احکام کی دعوت دینے کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں کہ اگر اس دوران انہیں کسی کافر یا کسی مسلمان کی طرف سے کسی ناقابل برداشت سلوک کا سامنا کرنا پڑے تو وہ رنجیدہ ہو کر اس فریضہ کی بجا اوری کو چھوڑ نہ دیں بلکہ ایسے موقع پر انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور ان کی قوموں کے واقعات کو یاد کریں کہ ان بزرگ ترین ہستیوں نے کس طرح اسلام کی دعوت دی اور انہیں نافرمان اور سرکش کفار کی طرف سے کیسی کیسی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن انہوں نے تمام تر تکلیفوں کے باوجود دین اسلام کی دعوت دینے کو نہیں چھوڑا تو ہم بھی ان کی پیروی کرتے ہوئے دین اسلام اور اس کے احکام کی دعوت دینا نہیں چھوڑیں گے۔ اس سے ان شاء اللہ دل کو تسلی ملے گی اور اسے مزید تقویت حاصل ہو گی۔