Surah Maryam Ayat 47 (19:47)
Mary · Juz 16 · Makki
قَالَ سَلٰمٌ عَلَیْكَۚ-سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّیْؕ-اِنَّهٗ كَانَ بِیْ حَفِیًّا 47
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariفرمایا: بس تجھے سلام ہے۔ عنقریب میں تیرے لیے اپنے رب سے معافی مانگوں گا بیشک وہ مجھ پربڑا مہربان ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکہا بس تجھے سلام ہے قریب ہے کہ میں تیرے لیے اپنے رب سے معافی مانگوں گا بیشک وہ مجھ پرمہربان ہے۔
Tafseer (Urdu)
{قال سلم علیك:فرمایا: بس تجھے سلام ہے۔} حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے چچا ازر کا جواب سن کر فرمایا ’’تجھے دور ہی سے سلام ہے ۔ عنقریب میں تیرے لیے اپنے رب عزوجل سے معافی مانگوں گا کہ وہ تجھے توبہ اور ایمان کی توفیق دے کر تیری مغفرت فرمادے بیشک وہ مجھ پر بڑا مہربان ہے۔(خازن مریم تحت الایۃ: ۴۷ ۳ / ۲۳۷) ازر کے لئے دعائے مغفرت کاوعدہ کرنے کی وجہ: حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے چچا ازر کے لئے جو مغفرت کی دعا فرمائی اس کا ذکر سورہ شعراء کی ایت نمبر 86 میں ہے اور یہاں یہ یاد رہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا اپنے چچا ازر سے یہ کہنا کہ’’ عنقریب میں تیرے لیے اپنے رب سے معافی مانگوں گا‘‘ اس وجہ سے تھا کہ اپ علیہ الصلوۃ والسلام کو اس کے ایمان لانے کی توقع تھی اور جب اپ علیہ الصلوۃ والسلام پر اس کا ایمان نہ لانا واضح ہو گیا تواس کے بعد اپ علیہ الصلوۃ والسلام ازر سے بیزار ہو گئے اورپھر کبھی اس کے لئے مغفرت کی دعا نہ کی۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے ’’و ما كان استغفار ابرهیم لابیه الا عن موعدة وعدها ایاه-فلما تبین له انه عدو لله تبرا منه-ان ابرهیم لاواه حلیم‘‘(توبہ:۱۱۴) ترجمہ کنزالعرفان:اور ابراہیم کا اپنے باپ کی مغفرت کی دعا کرنا صرف ایک وعدے کی وجہ سے تھا جو انہوں نے اس سے کر لیا تھا پھر جب ابراہیم کے لئے یہ بالکل واضح ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہوگئے ۔ بیشک ابراہیم بہت آہ و زاری کرنے والا بہت برداشت کرنے والا تھا۔