Surah Maryam Ayat 48 (19:48)
Mary · Juz 16 · Makki
وَ اَعْتَزِلُكُمْ وَ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ اَدْعُوْا رَبِّیْ ﳲ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوْنَ بِدُعَآءِ رَبِّیْ شَقِیًّا 48
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور میں تم لوگوں سے اور اللہ کے سوا جن (بتوں ) کی تم عبادت کرتے ہو ان سے جدا ہوتا ہوں اور میں اپنے رب کی عبادت کرتا ہوں ۔قریب ہے کہ میں اپنے رب کی عبادت کی وجہ سے بدبخت نہ ہوں گا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور میں ایک کنارے ہوجاؤں گا تم سے اور ان سب سے جن کو اللہ کے سوا پوجتے ہو اور اپنے رب کو پوجوں گا قریب ہے کہ میں اپنے رب کی بندگی سے بدبخت نہ ہوں ۔
Tafseer (Urdu)
{و اعتزلكم:اور میں تم لوگوں سے جدا ہوتا ہوں ۔} حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے مزید فرمایا کہ میں بابل شہر سے شام کی طرف ہجرت کر کے تم لوگوں سے اور اللہ کے سوا جن بتوں کی تم عبادت کرتے ہو ان سے جدا ہوتا ہوں اور میں اپنے اس رب عزوجل کی عبادت کرتا ہوں جس نے مجھے پیدا کیا اور مجھ پر احسان فرمائے ۔پھر اپ علیہ الصلوۃ والسلام نے عاجزی اور انکساری کرتے ہوئے فرمایا : قریب ہے کہ میں اپنے رب عزوجل کی عبادت کی وجہ سے بدبخت نہ ہوں گا۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جیسے تم بتوں کی پوجا کر کے بدنصیب ہوئے خدا کے پرستار کے لئے یہ بات نہیں کیونکہ اس کی بندگی کرنے والا بدبخت اور محروم نہیں ہوتا۔( خازن مریم تحت الایۃ: ۴۸ ۳ / ۲۳۷ مدارک مریم تحت الایۃ: ۴۸ ص۶۷۶ ملتقطا) ایت ’’و اعتزلكم و ما تدعون من دون الله‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات: اس ایت سے 3 باتیں معلوم ہوئیں : (1)… کافروں بد مذہبوں کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ نشست برخاست رکھنے سے بچنا چاہئے جیسے یہاں حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر ہوا کہ وہ اپنے کافر چچا سے علیحدہ ہو گئے تھے۔ (2)…اپنا دین نہیں چھپانا چاہئے جیسے یہاں ذکر ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنا دین صاف اور واضح طور پر بیان کر دیا کہ وہ صرف اس اللہ تعالی کی عبادت کرتے ہیں جو ان کا خالق ہے۔ (3)… اللہ تعالی کی عبادت کرنے والا بد نصیب نہیں ہو سکتا بلکہ بد نصیب تو وہ ہے جو اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور کی عبادت کرے۔