Surah Maryam Ayat 54 (19:54)
Mary · Juz 16 · Makki
وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ٘-اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا 54
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور کتاب میں اسماعیل کو یاد کرو بیشک وہ وعدے کا سچا تھا اور غیب کی خبریں دینے والارسول تھا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کتاب میں اسمٰعیل کو یاد کرو بیشک وہ وعدے کا سچا تھا اور رسول تھا غیب کی خبریں بتاتا۔
Tafseer (Urdu)
{و اذكر فی الكتب اسمعیل:اور کتاب میں اسماعیل کو یاد کرو۔} حضرت اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے فرزند ہیں اور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد سے ہیں ۔ اس ایت میں حضرت اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کے دو وصف بیان کئے گئے۔ (1)… اپ علیہ الصلوۃ والسلام وعدے کے سچے تھے ۔ یاد رہے کہ تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام وعدے کے سچے ہی ہوتے ہیں مگراپ علیہ الصلوۃ والسلام کا خصوصی طور پر ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اپ علیہ الصلوۃ والسلام اس وصف میں بہت زیادہ ممتاز تھے چنانچہ ایک مرتبہ اپ علیہ الصلوۃ والسلام کوکوئی شخص کہہ گیا جب تک میں نہیں اتا اپ یہیں ٹھہریں تواپ علیہ الصلوۃ والسلام اس کے انتظار میں 3دن تک وہیں ٹھہرے رہے۔ اسی طرح (جب حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام اپ کو اللہ تعالی کے حکم سے ذبح کرنے لگے تو) ذبح کے وقت اپ علیہ الصلوۃ والسلام نے صبر کرنے کا وعدہ فرمایا تھا اس وعدے کو جس شان سے پورا فرمایا اس کی مثال نہیں ملتی۔( خازن مریم تحت الایۃ: ۵۴ ۳ / ۲۳۸) (2)…اپ علیہ الصلوۃ والسلام غیب کی خبریں دینے والے رسول تھے۔ اپ علیہ الصلوۃ والسلام کورسول اور نبی فرمایا گیا ہے اس میں بنی اسرائیل کے ان لوگوں کی تردید کرنا مقصود تھا جویہ سمجھتے تھے کہ نبوت صرف حضرت اسحاق علیہ الصلوۃ والسلام کے لیے ہے اور حضرت اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام نبی نہیں ہیں ۔ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی وعدہ وفائی اوپر بیان ہو اکہ حضرت اسماعیل کسی جگہ پر 3دن تک ایک شخص کے انتظار میں ٹھہرے رہےاسی طرح کا ایک واقعہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے بارے میں بھی احادیث کی کتابوں میں موجود ہے چنانچہ حضرت عبد اللہ بن ابو الحمساء رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : بعثت سے پہلے میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے کوئی چیز خریدی اور اس کی کچھ قیمت میری طرف باقی رہ گئی تھی۔ میں نے وعدہ کیا کہ اسی جگہ لاکر دیتا ہوں میں بھول گیا اور تین دن کے بعد یاد ایا میں گیا تو اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اسی جگہ موجود تھے۔ ارشاد فرمایا ’’اے نوجوان! تو نے مجھے تکلیف دی ہے میں تین دن سے یہاں تمہارا انتظار کر رہا ہوں ۔( ابوداود کتاب الادب باب فی العدۃ ۴ / ۴۸۸ الحدیث: ۴۹۹۶)