Surah Maryam Ayat 65 (19:65)
Mary · Juz 16 · Makki
رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَ اصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖؕ-هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا 65
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariآسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے سب کا رب (وہی ہے)تو اسی کی عبادت کرو اور اس کی عبادت پر ڈٹ جاؤ، کیا تم اللہ کا کوئی ہم نام جانتے ہو؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanآسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے سب کا مالک تو اسے پوجو اور اس کی بندگی پر ثابت رہو کیا اس کے نام کا دوسرا جانتے ہو ۔
Tafseer (Urdu)
{رب السموت و الارض:آسمانوں اور زمین کا رب۔} یعنی اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے سب کا مالک اپ کا رب عزوجل ہی ہے اپ اسی کی عبادت کرتے رہیں اور اس کی عبادت پر ڈٹ جائیںکیا اپ اللہ تعالی کا کوئی ہم نام جانتے ہیں یعنی کسی کو اس کے ساتھ نام کی شرکت بھی نہیں اور اس کی وحدانیت اتنی ظاہر ہے کہ مشرکین نے بھی اپنے کسی باطل معبودکا نام’’ اللہ‘‘ نہیں رکھا ۔ اس ایت مبارکہ میں فرمایا گیا کہ اس کی عبادت پر ڈٹ جاو اس سے معلوم ہوا کہ خوشی و غم ہر حال میں ہمیشہ عبادت کرنی چاہیے ۔ یہی حکم ہے اور یہی بارگاہ خدا عزوجل میں محبوب ہے صرف خوشی یا صرف غم میں عبادت کرنا کمال نہیں ۔ ایت میں اللہ تعالی کی صفت ربوبیت بیان کرکے عبادت کا حکم دینے میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اللہ تعالی کا بندے کو پالنا نعمتیں پہنچانا اور بتدریج مرتبہ کمال تک پہنچانا بھی اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ بندے احسان مندی کے طور پر اللہ تعالی کی عبادت کریں ۔