Surah Maryam Ayat 66 (19:66)
Mary · Juz 16 · Makki
وَ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَ جُ حَیًّا 66
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور آدمی کہتا ہے: کیا جب میں مرجاؤں گا تو عنقریب مجھے زندہ کرکے ضرور نکالا جائے گا؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور آدمی کہتا ہے کیا جب میں مرجاؤں گا تو ضرور عنقریب جِلا کر نکالا جاؤں گا ۔
Tafseer (Urdu)
{و یقول الانسان:اور آدمی کہتا ہے۔} اس ایت میں انسان سے مراد وہ کفار ہیں جو موت کے بعد زندہ کئے جانے کے منکر تھے جیسے ابی بن خلف اور ولید بن مغیرہ اور ان جیسے تمام کفار انہیں لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ یہ کافر انسان مرنے کے بعد اٹھائے جانے کا مذاق اڑاتے اور اسے جھٹلاتے ہوئے کہتا ہے کہ کیا جب میں مرجاؤں گا تو عنقریب مجھے قبر سے زندہ کرکے ضرور نکالا جائے گا( خازن مریم تحت الایۃ: ۶۶ ۳ / ۲۴۱ جلالین مریم تحت الایۃ: ۶۶ ص۲۵۸ ملتقطا)