Surah Maryam Ayat 69 (19:69)
Mary · Juz 16 · Makki
ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِیْعَةٍ اَیُّهُمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ عِتِیًّا 69
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariپھر ہم ہر گروہ سے اسے نکالیں گے جو ان میں رحمٰن پر سب سے زیادہ بے باک ہوگا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanپھر ہم ہر گروہ سے نکالیں گے جو ان میں رحمٰن پر سب سے زیادہ بے باک ہوگا۔
Tafseer (Urdu)
{ثم لننزعن من كل شیعة:پھر ہم ہر گروہ سے اسے نکالیں گے۔} ارشاد فرمایا کہ جہنم کے اس پاس کفار کو جمع کرنے کے بعد ہم کفار کے ہر گروہ سے اسے نکالیں گے جو ان میں رحمن کی نافرمانی کرنے پر سب سے زیادہ بے باک ہوگا تاکہ جہنم میں سب سے پہلے اسے داخل کیا جائے جو سب سے زیادہ سرکش اور کفر میں زیادہ شدید ہو اور بعض روایات میں ہے کہ کفار سب کے سب جہنم کے گرد زنجیروں میں جکڑے طوق ڈالے ہوئے حاضر کئے جائیں گے پھر جو کفر و سرکشی میں زیادہ سخت ہوں گے وہ پہلے جہنم میں داخل کئے جائیں گے اور انہیں باقی کافروں کے مقابلے میں عذاب بھی زیادہ سخت ہوگا۔( خازن مریم تحت الایۃ: ۶۹ ۳ / ۲۴۲) کفار کے عذاب میں فرق ہو گا: یاد رہے کہ کفر اگرچہ یکساں ہے کہ ’’الکفر ملۃ واحدۃ‘‘ یعنی کفر ایک ہی ملت ہے مگر کفار مختلف قسم کے ہیں کہ بعض ان میں سے وہ ہیں جو خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا اور بعض وہ ہیں جو کسی کی پیروی کر کے گمراہ ہوئے تو ان میں ہر قسم کے کافر کو اس قسم کا عذاب ہو گا جس کا وہ مستحق ہے جیسے گمراہ گر کافروں کو پیروی کرنے والے کفار کے مقابلے میں دگنا عذاب ہو گاچنانچہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے ’’الذین كفروا و صدوا عن سبیل الله زدنهم عذابا فوق العذاب بما كانوا یفسدون‘‘(نحل: ۸۸) ترجمہ کنزالعرفان: جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا ہم ان کے فساد کے بدلے میں عذاب پر عذاب کا اضافہ کردیں گے۔ اور ارشاد فرماتا ہے ’’و لیحملن اثقالهم و اثقالا مع اثقالهم‘‘ (عنکبوت:۱۳) ترجمہ کنزالعرفان: اور بیشک ضرور اپنے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور بوجھ اٹھائیں گے ۔ {ثم لنحن اعلم:پھر ہم انہیں خوب جانتے ہیں ۔} یعنی ہم خوب جانتے ہیں کہ کون سا کافر جہنم کے کس طبقہ کے لائق ہے اور کون سا کافر جہنم کے شدید عذاب کا مستحق ہے اور کون سا نہیں اور کسے پہلے جہنم میں پھینکا جائے گا اورکسے بعد میں ۔