Surah Maryam Ayat 8 (19:8)
Mary · Juz 16 · Makki
قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا وَّ قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِیًّا 8
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariعرض کی: اے میرے رب! میرے لڑکا کہاں سے ہوگا حالانکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی وجہ سے سوکھ جانے کی حالت کو پہنچ چکا ہوں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanعرض کی اے میرے رب میرے لڑکا کہاں سے ہوگا میری عورت تو بانجھ ہے اور میں بڑھاپے سے سوکھ جانے کی حالت کو پہنچ گیا۔
Tafseer (Urdu)
{قال رب انى یكون لی غلم:عرض کی:اے میرے رب میرے لڑکا کہاں سے ہوگا۔} حضرت زکریا علیہ الصلوۃ والسلام نے جب بیٹے کی خوشخبری سنی تو عرض کی: اے میرے رب! عزوجل میرے ہاں لڑکا کس طرح ہوگا کیونکہ میری بیوی نے اپنی اور میری جوانی کے زمانے میں بچہ نہیں جنا تو اب بڑھاپے کی حالت میں وہ کس طرح جنے گی اور میں بھی بڑھاپےکی وجہ سے خشک لکڑی کی طرح سوکھ جانے کی حالت کو پہنچ چکا ہوں ۔( روح البیان مریم تحت الایۃ: ۸ ۵ / ۳۱۶-۳۱۷) یاد رہے کہ حضرت زکریا علیہ الصلوۃ والسلام کے اس طرح عرض کرنے میں اللہ عزوجل کی قدرت پر کسی عدم یقین کا اظہار نہیں تھا بلکہ معلوم یہ کرناتھا کہ بیٹاکس طرح عطا کیا جائے گا کیا ہمیں دوبارہ جوانی عطاکی جائے گی یااسی عمرمیں بیٹا عطا کیا جائے گا۔ نوٹ:حضرت زکریا علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ کلام سورہ ال عمران کی ایت نمبر 40 میں بھی گزر چکا ہے۔