Surah Al Baqarah Ayat 100 (2:100)
The Cow · Juz 1 · Madani
اَوَ كُلَّمَا عٰهَدُوْا عَهْدًا نَّبَذَهٗ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْؕ-بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ 100
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جب کبھی انہوں نے کوئی عہدکیا تو ان میں سے ایک گروہ نے اس عہد کو پھینک دیا بلکہ ان میں سے اکثر مانتے ہی نہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کیا جب کبھی کوئی عہد کرتے ہیں ان میں ایک فریق اسے پھینک دیتا ہے بلکہ ان میں بہتیروں کو ایمان نہیں۔
Tafseer (Urdu)
{عهدوا عهدا: انہوں نے عہد کیا۔} حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہمافرماتے ہیں :جب حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے یہودیوں کو اللہ تعالی کے وہ عہد یاد دلائے جو حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر ایمان لانے کے متعلق تھے تو مالک بن صیف نے کہا:خدا کی قسم !اپ کے بارے میں ہم سے کوئی عہد نہیں لیا گیا۔ا س کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ یہودیوں نے جب کبھی کوئی عہدکیا تو ان میں سے ایک گروہ نے اس عہد کو ویسے ہی پیٹھ پیچھے پھینک دیا بلکہ ان میں سے اکثر یہودیوں کو تورات پر ایمان ہی نہیں اسی لئے وہ عہد توڑنے کو گناہ نہیں سمجھتے اور نہ ہی اس بات کی کوئی پرواہ کرتے ہیں۔(خازن البقرۃ تحت الایۃ: ۱۰۰ ۱ / ۷۲ روح البیان البقرۃ تحت الایۃ: ۱۰۰ ۱ / ۱۸۹ ملتقطا) بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہودیوں نے یہ عہد کیا تھا کہ جب نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ظہور ہو گا تو ہم ان پر ضرور ایمان لائیں گے اور عرب کے مشرکوں کے خلاف ہم ضرور ان کے ساتھ ہوں گے لیکن جب حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اپنی نبوت کا اعلان فرمایا تو یہودیوں نے اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر ایمان لانے کی بجائے انکار کر دیا۔ اس پر یہ ایت نازل ہوئی ۔ (قرطبی البقرۃ تحت الایۃ: ۱۰۰ ۱ / ۳۱ الجزء الثانی)