Surah Al Baqarah Ayat 104 (2:104)
The Cow · Juz 1 · Madani
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْاؕ-وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ 104
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے ایمان والو!راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے ایمان والوراعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے۔
Tafseer (Urdu)
{لا تقولوا راعنا: راعنا نہ کہو۔ }شان نزول: جب حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کو کچھ تعلیم و تلقین فرماتے تو وہ کبھی کبھی درمیان میں عرض کیا کرتے۔ ’’راعنا یارسول اللہ‘‘ اس کے یہ معنی تھے کہ یا رسول اللہ !صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہمارے حال کی رعایت فرمائیے یعنی کلام اقدس کو اچھی طرح سمجھ لینے کا موقع دیجئے۔ یہودیوں کی لغت میں یہ کلمہ بے ادبی کامعنی رکھتا تھا اور انہوں نے اسی بری نیت سے کہنا شروع کردیا۔ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ یہودیوں کی اصطلاح سے واقف تھے۔ آپ نے ایک روز یہ کلمہ ان کی زبان سے سن کر فرمایا: اے دشمنان خدا !تم پر اللہ کی لعنت اگر میں نے اب کسی کی زبان سے یہ کلمہ سناتو اس کی گردن اڑا دوں گا۔ یہودیوں نے کہا: ہم پر تو آپ برہم ہوتے ہیں جبکہ مسلمان بھی تو یہی کہتے ہیں اس پر آپ رنجیدہ ہو کر سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے ہی تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی جس میں ’’راعنا‘‘ کہنے کی ممانعت فرمادی گئی اور اس معنی کا دوسرا لفظ ’’انظرنا‘‘ کہنے کا حکم ہوا ۔ (قرطبی البقرۃ تحت الایۃ: ۱۰۴ ۱ / ۴۴-۴۵ الجزء الثانی تفسیر کبیر البقرۃ تحت الایۃ: ۱۰۴ ۱ / ۶۳۴ تفسیر عزیزی(مترجم)۲ / ۶۶۹ ملتقطا) ایت’’یایها الذین امنوا لا تقولوا راعنا‘‘ سے معلوم ہونے والے احکام: اس ایت سے معلوم ہوا کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی تعظیم و توقیر اور ان کی جناب میں ادب کا لحاظ کرنا فرض ہے اور جس کلمہ میں ترک ادب کا معمولی سا بھی اندیشہ ہو وہ زبان پر لانا ممنوع ہے۔ایسے الفاظ کے بارے میں حکم شرعی یہ ہے کہ جس لفظ کے دو معنی ہوں اچھے اور برے اور لفظ بولنے میں اس برے معنی کی طرف بھی ذہن جاتا ہو تو وہ بھی اللہ تعالی اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے لئے استعمال نہ کئے جائیں۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ کا ادب رب العالمین خود سکھاتا ہے اور تعظیم کے متعلق احکام کو خود جاری فرماتا ہے۔ {و اسمعوا: اور غور سے سنو۔} یعنی حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے کلام فرمانے کے وقت ہمہ تن گوش ہو جاو تاکہ یہ عرض کرنے کی ضرورت ہی نہ رہے کہ حضورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم توجہ فرمائیں کیونکہ دربار نبوت کا یہی ادب ہے۔ {و للكفرین: اور کافروں کیلئے۔} یعنی جو یہودی سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی توہین کر رہے ہیں اور ان کے بارے میں بے ادبی والے الفاظ استعمال کر رہے ہیں ان یہودیوں کے لئے درد ناک عذاب ہے۔(روح البیان البقرۃ تحت الایۃ: ۱۰۴ ۱ / ۹۷) یاد رہے کہ اس ایت میں ا س بات کی طرف اشارہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی جناب میں بے ادبی کفر ہے ۔