Surah Al Baqarah Ayat 13 (2:13)
The Cow · Juz 1 · Madani
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُؕ-اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَ لٰـكِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ 13
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جب ان سے کہا جائے کہ تم اسی طرح ایمان لاؤ جیسے اور لوگ ایمان لائے توکہتے ہیں :کیا ہم بیوقوفوں کی طرح ایمان لائیں ؟ سن لو: بیشک یہی لوگ بیوقوف ہیں مگر یہ جانتے نہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جب ان سے کہا جائے ایمان لاؤجیسے اور لوگ ایمان لائے ہیں تو کہیں کیا ہم احمقوں کی طرح ایمان لے آئیں؟ سنتا ہے! وہی احمق ہیں مگر جانتے نہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{كما امن الناس: جیسے اور لوگ ایمان لائے۔} یہاں ’’الناس‘‘ سے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اور ان کے بعد ان کی کامل اتباع کرنے والے مراد ہیں۔ نجات والے کون لوگ ہیں : اس ایت میں بزرگان دین کی طرح ایمان لانے کے حکم سے معلوم ہوا کہ ان کی پیروی کرنے والے نجات والے ہیں اوران کے راستے سے ہٹنے والے منافقین کے راستے پر ہیں اوریہ بھی معلوم ہوا کہ ان بزرگوں پر طعن و تشنیع کرنے والے بہت پہلے سے چلتے ارہے ہیں۔ اس ایت کی روشنی میں صحابہ و ائمہ اور بزرگان دین رحمۃ اللہ تعالی علیہم کے متعلق اپنا طرز عمل دیکھ کر ہر کوئی اپنا راستہ سمجھ سکتا ہے کہ صحابہ کے راستے پر ہے یا منافقوں کے راستے پرنیز علماء و صلحاء اور دیندارلوگوں کوچاہئے کہ وہ لوگوں کی بدزبانیوں سے بہت رنجیدہ نہ ہوں بلکہ سمجھ لیں کہ یہ اہل باطل کا قدیم دستور ہے۔نیز دینداروں کو بیوقوف یا دقیانوسی خیالات والا کہنے والے خود بے وقوف ہیں۔ صحابہ کرام کی بارگاہ الہی میں مقبولیت: اس ایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اللہ تعالی کی بارگاہ کے ایسے مقبول بندے ہیں کہ ان کی گستاخی کرنے والوں کو اللہ تعالی نے خود جواب دیا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے بارے میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور پر نورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’میرے صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم کو گالی گلوچ نہ کرو (ان کا مقام یہ ہے کہ )اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا(اللہ تعالی کی راہ میں) خرچ کرے تو ا س کا ثواب میرے کسی صحابی رضی اللہ تعالی عنہم کے ایک مد (ایک چھوٹی سی مقدار)بلکہ ادھامد خرچ کرنے کے برابر بھی نہیں ہو سکتا ۔(بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم: لو کنت متخذا خلیلا ۲ / ۵۲۲ الحدیث: ۳۶۷۳) اور اللہ تعالی کے اولیاء کے بارے میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے فرمایا: ’’جو میرے کسی ولی سے دشمنی کرے اسے میں نے لڑائی کا اعلان دے دیا۔(بخاری کتاب الرقاق باب التواضع ۴ / ۲۴۸ الحدیث: ۶۵۰۲) اس سے ان لوگوں کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے جو صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی بے ادبی اور گستاخی کرتے ہیں اور اللہ تعالی کے اولیاء کے بارے میں غلط عقائد و نظریات رکھتے ہیں۔