Surah Al Baqarah Ayat 151 (2:151)
The Cow · Juz 2 · Madani
كَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ یَتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِنَا وَ یُزَكِّیْكُمْ وَ یُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَؕ 151
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariجیساکہ ہم نے تمہارے درمیان تم میں سے ایک رسول بھیجاجو تم پر ہماری آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور تمہیں پاک کرتا اور تمہیں کتاب اور پختہ علم سکھاتا ہے اور تمہیں وہ تعلیم فرماتا ہے جو تمہیں معلوم نہیں تھا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجیسے ہم نے تم میں بھیجا ایک رسول تم میں سے کہ تم پر ہماری آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور تمہیں پاک کرتا اور کتاب اور پختہ علم سکھاتا ہے اور تمہیں وہ تعلیم فرماتا ہے جس کا تمہیں علم نہ تھا۔
Tafseer (Urdu)
{كما ارسلنا فیكم رسولا منكم: جیساکہ ہم نے تمہارے درمیان تم میں سے ایک رسول بھیجا۔} خانہ کعبہ کی تبدیلی اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت تھی اب اس سے بڑی نعمت یعنی حضور سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا بیان ہے۔ جیسے خانہ کعبہ کو حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام سے نسبت ہے ایسے ہی ہمارے اقا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو بھی حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام سے نسبت ہے۔ کعبہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی تعمیر کا نتیجہ ہے اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ا س تعمیر کے بعد کی دعا کا ثمرہ ہیں۔ اللہ تعالی کی سب سے بڑی نعمت: یاد رہے کہ حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اللہ تعالی کی سب سے بڑی نعمت ہیں۔ حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو اللہ تعالی خود اپنا احسان قرار دیتا ہے جیسے فرمایا: لقد من الله على المؤمنین اذ بعث فیهم رسولا(ال عمران: ۱۶۴) ترجمہ کنزالعرفان: بیشک اللہ نے ایمان والوں پر بڑا احسان فرمایا جب ان میں ایک رسول مبعوث فرمایا۔ اور وہ رسول بھی کیسے ہیں قران علم قران فہم قران اسرار قران حکمت طہارت نفس تزکیہ قلب اصلاح ظاہر و باطن اور دنیاو اخرت کی ساری بھلائیاں دینے والے ہیں۔ اسی تطہیر و تزکیہ کو ایک اور جگہ اللہ تعالی بیان فرماتا ہے: خذ من اموالهم صدقة تطهرهم و تزكیهم بها۔(التوبہ:۱۰۳) ترجمہکنزالعرفان:اے حبیب! تم ان کے مال سے زکوۃ وصول کرو جس سے تم انھیں ستھرا اور پاکیزہ کردو۔ {و یعلمكم ما لم تكونوا تعلمون: اور تمہیں وہ تعلیم فرماتا ہے جو تمہیں معلوم نہیں۔} قران اور احکام الہیہ جو ہم نہیں جانتے تھے وہ تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہمیں سکھاتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سب کچھ سکھاتے ہیں: اور حقیقت یہ ہے کہ صرف ظاہری مضامین قران اور اللہ تعالی کے احکام ہی نہیں بلکہ حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سب کچھ سکھاتے ہیں۔ کیونکہ اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اولین و اخرین کے علوم کے جامع ہیں۔ قصیدہ بردہ میں امام بوصیری رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: فاق النبیین فی خلق و فی خلق ولم یدانوہ فی علم ولا کرم یعنی اپ حسن و جمال اور اخلاق میں تمام نبیوں پر فائق ہیں اور علم و کرم میں کوئی اپ کے برابر نہیں۔ بخاری شریف میں حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ایک مرتبہ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور ہم کو(مخلوق کی) ابتداء پیدائش کی خبریں دینے لگے حتی کہ یہاں تک بیان کیا کہ جنتی لوگ اپنی منزلوں میں پہنچ گئے اور جہنمی اپنی منزلوں میں جس نے یاد رکھا اس نے یاد رکھا اور جو بھول گیا وہ بھول گیا۔ (یعنی تمام کائنات کی خبریں ارشاد فرمادیں۔)(بخاری کتاب بدء الخلق باب ما جاء فی قول اللہ تعالی: وہو الذی یبدء الخلق۔۔۔ الخ ۲ / ۳۷۵ الحدیث: ۳۲۹۲) حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ہر قول و فعل میں وہ علم و حکمت ہے کہ دنیا اج تک وہ تمام علم و حکمت معلوم نہیں کرسکی۔